تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 135
تاریخ احمدیت۔جلد 23 135 سال 1965ء نے آپ کو دعا کے لئے کہا ہے آپ وہ دعا کریں تب انہوں نے دعا کے واسطے سینہ تک ہاتھ اٹھائے مگر اونچے نہ کئے اور کہا ” کیس“ میں نے کہا کھول کر بیان کرو مگر انہوں نے کچھ کھول کر نہ بیان کیا اور بار بار اکیس اکیس کہتے رہے اور پھر چلے گئے۔( حضور فرماتے ہیں کہ یہ ساری رؤیا تو نہیں مگر آج رات ایک لمبے عرصہ تک یہی رؤیا ذہن میں آکر بار بار یہ الفاظ جاری ہوتے رہے۔اکیس اکیس۔چنا نچہ ۱۹۴۴ء سے ٹھیک اکیس سال بعد حضور کا وصال مبارک ہوا اور خدا کی بات لفظاً لفظاً پوری ہوئی۔اس رؤیا سے دو سال قبل خدائے ذوالعرش کی طرف سے اکتوبر ۱۹۴۲ء میں حضور کو مندرجہ ذیل الہام ہوا:۔موتُ حَسَنٍ موتٌ حَسَنٌ فِي وَقتٍ حَسَنٍ“ کہ حسن کی موت بہترین موت ہوگی اور ایسے وقت میں ہوگی جو بہتر ہوگا۔اس الہام کی تشریح میں حضرت المصلح الموعود فرماتے ہیں کہ :۔اس الہام میں مجھے حسن رضی اللہ عنہ کا بروز کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ذات کے ساتھ تعلق رکھنے والی پیشگوئی کو پورا کرے گا اور میرا انجام بہترین ہوگا اور جماعت میں کسی قسم کی خرابی پیدا نہ ہوگی۔“ بیماری ، آخری لمحات اور وفات 98 حضرت مصلح موعود کی صحت کچھ سالوں سے مسلسل خراب رہ رہی تھی۔اور اس وجہ سے حضور نماز پڑھانے اور خطبات دینے کے لئے تشریف نہیں لا سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ علاج معالجہ کی ہر ممکن کوششیں جاری رہیں۔اکتوبر ۱۹۶۵ء کے آخری دنوں میں حضور کو بخار کی شکایت شروع ہوگئی۔ضعف کے علاوہ غنودگی بھی شروع ہو جاتی۔خون کے ٹسٹ میں انفکشن کی علامات پائی گئیں۔لاہور سے ایک ماہر ڈاکٹر صادق حسن صاحب نے ربوہ آکر حضور کا معائنہ کیا۔پہلے کی طرح حضور کے صاحبزادے مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب حضور کے علاج میں روز و شب مصروف تھے۔۳۰ /اکتوبر کوخون کے ٹسٹ بلڈ کلچر کے نتیجے سے معلوم ہوا کہ حضور کو Staphylococci کی انفیکشن ہے۔یکم نومبر سے بخار کم ہو گیا۔مگر