تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 134 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 134

تاریخ احمدیت۔جلد 23 134 سال 1965ء سید نا حضرت خلیفة المسح الثاني لمصلح الموعود کا وصال خلافت ثالثہ کا قیام اک وقت آئے گا کہ کہیں گے تمام لوگ ملت کے اس فدائی پہ رحمت خدا کرے سید نا حضرت خلیفہ محی الثانی الصلح الموعود ایک عرصہ سے بیمار چلے آرہے تھے۔آخرے- ۸نومبر ۱۹۶۵ء کو وہ قیامت خیز گھڑی آن پہنچی جب خدا کے اس محبوب بندے کو جو ہزاروں سالوں کے انتظار کے بعد خدا کی مجسم رحمت بن کر آسمان سے نازل ہوا تھا جو قدرت رحمت اور قربت کا نشان تھا جو فتح و ظفر کی کلید تھا جس نے اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کیا۔جو سخت ذہین و فهیم، دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی کی کائنات کا تاجدار تھا۔جو دنیا کی بہت سی اسیر قوموں کی رستگاری کا موجب بنا۔جس کے بے مثال کارناموں کی دنیا کے کناروں تک دھوم مچ گئی۔جس کی مبارک اور مقدس روح سے قوموں نے برکتوں کا تاج پہنا، اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔یعنی مہدی موعود کے فرزندار جمند حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے ڈلا رے اور مسند خلافت کے آسمانی تاجدار سید نا محمود الصلح الموعود تقریباً ۵۲ سال کی حیات آفریں ضیا پاشیوں کے بعد اپنے آسمانی آقا کے دربار میں پہنچ گئے۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ گو حضور نے خدا سے علم پا کر مدتوں قبل بتارکھا تھا کہ میں جانے والا ہوں۔مگر کب یقین آ سکتا تھا کہ یہ بے بہا نعمت جو ہزاروں سال کے بعد غریبوں اور بے کسوں کو عطا ہوئی ہے اتنی جلدی چھن جائے گی۔چنانچہ حضور نے اپنے وصال سے تقریباً اکیس برس قبل ۲۳ را پریل ۱۹۴۴ء کوارشاد فرمایا :- آج میں نے ویسا ہی ایک رؤیا دیکھا ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک رؤیا ہے کہ خواب میں آپ نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کو دیکھا اور ان سے کہا آپ میرے واسطے دعا کریں کہ میری عمر اتنی ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا تحصیلدار۔میں نے کہا یہ آپ غیر متعلق بات کرتے ہیں جس امر کے واسطے میں