تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 136 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 136

تاریخ احمدیت۔جلد 23 136 سال 1965ء ۴ نومبر کوخون کے ٹسٹ پر یہ قابلِ فکر بات سامنے آئی کہ ابھی انفیکشن موجود ہے۔نومبر کی رات کو لاہور سے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ آیا جس میں مکرم ڈاکٹر مسعود احمد صاحب، ڈاکٹر عبدالرؤف صاحب، ڈاکٹر رستم نبی صاحب اور ڈاکٹر عشرت صاحب شامل تھے۔بورڈ نے حضور کا معائنہ کیا اور ECG اور ایکس رے لے کر رائے دی کہ دل اور سینہ پر کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا۔اگلے روز حضور کو تھوڑی دیر حرارت ہوئی۔پھر ٹمپریچر نسبتا نارمل ہو گیا مگر ضعف اور سانس کی تکلیف رہی۔۶ نومبر کو حضور کی طبیعت پھر خراب ہونی شروع ہوئی۔کھانسی شروع ہونے کے علاوہ ضعف میں اضافہ ہو گیا اس کے ساتھ سانس کی تکلیف بھی پہلے کی طرح برقرار تھی۔لاہور سے آئے ہوئے ڈاکٹر مسعود احمد صاحب اور ڈاکٹر صادق حسن صاحب اور کراچی سے آئے ہوئے ڈاکٹر ذکی الحسن صاحب نے حضور کا معائنہ کیا اور رائے دی کہ حضور کی حالت گذشتہ چوبیس گھنٹے میں بہت تشویشناک ہو گئی ہے۔ملک کی معروف پتھالوجسٹ محترمہ ڈاکٹر زینت حسن صاحبہ نے خون کا معائنہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ خون میں انفیکشن بڑھ گئی ہے۔نومبر کی صبح الفضل کے ضمیمہ میں مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کا اعلان شائع ہوا، جس کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ مصرعہ درج تھا حیلے سب جاتے رہے اک حضرت تو اب ہے ریڈیو پاکستان پر بار بار آپ کی علالت کی خبر نشر ہو رہی تھی۔اور آپ کے عشاق بڑی تعداد میں دعائیں کرتے ہوئے ربوہ پہنچ رہے تھے۔ے نومبر کی شام تک آپ کی طبیعت بہت خراب ہو چکی تھی۔مکرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب، لاہور کے احمدی ڈاکٹر مکرم مسعود احمد صاحب اور کراچی سے آئے ہوئے مکرم ڈاکٹر ذکی الحسن صاحب علاج میں مصروف تھے۔لیکن حضور انور کی طبیعت مسلسل تشویشناک صورت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ان انتہائی دلگد از لمحات کا ذکر کرتے ہوئے (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔شام سے طبیعت زیادہ خراب تھی اور مسلسل سانس کو درست رکھنے کے لئے آکسیجن دی جا رہی تھی۔چھاتی میں رسوب زیادہ بھر رہا تھا جسے بار بار نکالنے کی ضرورت پیش آتی تھی اور مکرم محترم ڈاکٹر قاضی مسعود احمد صاحب اور برادرم ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب بار بار معائنہ فرماتے اور رسوب کا اخراج خود اپنے ہاتھوں سے کرتے رہے۔بچوں میں سے دو تو ڈیوٹی پر تھے اور باقی تمام ویسے ہی جمع