تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 106 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 106

تاریخ احمدیت۔جلد 23 106 سال 1965ء جارہے تھے بھاری طیارہ شکن توپ کا گولہ آپ کے جہاز کو لگا۔آپ اپنے لیڈر کوصرف یہی اطلاع دے سکے کہ سر مجھے گولہ لگ چکا ہے اور جہاز آگ کے تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔اس طرح آپ نے اپنی آنکھوں سے اپنی کامیابی دیکھتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔اس سے پہلے بھی آپ ۶ ستمبر کو چھمب جوڑیاں کے محاذ پر بھارت کے کئی جنگی طیارے تباہ کر چکے تھے اور بھارتی ٹینکوں اور توپوں کو اپنا شکار بنا چکے تھے۔آپ ۶ ستمبر ۱۹۲۷ء کو بھارت کے شہر امرتسر قادیان ضلع گورداسپور۔ناقل ) میں پیدا ہوئے۔مڈل تک تعلیم امرتسر شہر (اصل قادیان ) میں ہی حاصل کی۔۱۹۴۴ء ( قیام ربوہ ۱۹۴۸ء) میں آپ کا خاندان ربوہ ضلع جھنگ میں آکر آباد ہو گیا۔آپ کے والد ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین پیشے کے اعتبار سے قابل احترام تھے اور دور ونزدیک کے لوگ شفا کی تلاش میں ان کے در دولت پر حاضری دیتے۔منیر الدین احمد نے میٹرک کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔۲۲ دسمبر ۱۹۵۱ء کو با قاعدہ کمیشن لیا۔آپ کی شادی ۲۲ اکتو بر ۱۹۵۸ء کو خانقاہ ڈوگراں میں شاہدہ بیگم سے ہوئی۔آپ کے آنگن میں ایک ہی پھول کھلا جو بیٹی زاہدہ منیر کے نام سے تھا۔پاک بھارت جنگ کے دوران آپ نے آٹھ انتہائی اہم معرکوں میں شرکت کی اور دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔امرتسر کے ہائی پاور ریڈار کی تباہی کی ذمہ داری جب آپ کو سونپی گئی تو آپ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا مشن مکمل کیا لیکن مشن کی کامیابی کے ساتھ ہی آپ کو شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل ہوا۔جرات اور بے مثال بہادری کے عوض آپ کو ستارہ جرات سے نوازا گیا۔آپ برج کے اعلیٰ کھلاڑی تھے۔اعلیٰ ہوا بازی اور بہترین نشانہ بازی کی بدولت آپ کو پاک فضائیہ میں بزرگ کا درجہ حاصل تھا۔جن کیڈٹوں نے ان کی شاگردی میں کام کیا وہ آج بھی ان کا نام بڑے فخر سے لیتے ہیں“۔اسی طرح مکرم سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد صاحب شہید ”ستارہ جرات کی بے مثال اور عظیم جرات و بہادری پر کتاب ”ہمارے غازی ہمارے شہید میں زبر دست خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔میجر منیر احمد صاحب شہید 80 آپ مکرم خواجہ عبدالقیوم صاحب آف جمیل لاج محلہ دارالرحمت وسطی ربوہ کے فرزند تھے۔آپ