تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 107
تاریخ احمدیت۔جلد 23 107 سال 1965ء نے محاذ جنگ پر نماز پڑھتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی جان کی قربانی پیش کی۔روزنامہ مشرق (لاہور) نے اپنی ۵ نومبر ۱۹۶۵ء کی اشاعت میں پاکستان کی جنگی تاریخ کے اس اہم واقعہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا:۔میجر منیر احمد محاذ پر نماز پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے انہوں نے پروردگار کی بارگاہ میں اپنی جان کی قربانی پیش کی۔کاش میں اس مقدس جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کر سکوں۔یہ الفاظ میجر منیر احمد (انجینئر کور ) نے شہادت سے چند گھنٹے قبل اپنے ایک ساتھی میجر سے گفتگو کرتے ہوئے کہے۔میجر منیر احمد کو کیا معلوم کہ چند ساعتوں کے بعد ہی بارگاہ رب العزت میں ان کی یہ دعا شرف قبولیت حاصل کر لے گی۔اور انہیں مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہونے کی سعادت حاصل ہو جائے گی۔میجر منیر احمد لاہور کے محاذ پر مسلسل دو دن اور دو راتیں دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔۲۱ ستمبر کو دشمن کی طرف سے گولہ باری تھی تو انہیں ہدایت ملی کہ وہ پچھلے مورچوں میں جا کر آرام کر لیں، میجر منیر احمد بادل نخواستہ اپنے مورچے سے نکلے اور مورچے کے قریب ہی نماز عشاء کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے۔ابھی وہ نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ دشمن کی طرف سے گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا اور میجر منیر احمد دشمن کا گولہ لگنے سے شہید ہو گئے۔میجر منیر احمد کی شہادت کی اطلاع بذریعہ ٹیلیفون دی گئی تو اس وقت ان کے والد خواجہ عبدالقیوم گھر پر موجود نہیں تھے ان کی ضعیف العمر والدہ نے اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سنتے ہی بارگاہ ایزدی میں ہاتھ اٹھا دئے اور کہا کہ میرے مولا! تو نے میرے لختِ جگر کی شہادت قبول کر لی اور اسے اس شرف سے نوازا کہ وہ دس کروڑ مسلمانوں کے ملک کا دفاع کر سکے اور اسی نیک مقصد میں جان کی بازی لگادی۔میجر منیر احمد صاحب نے رن کچھ کے محاذ پر بھی دشمن کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔اور یہاں بھی دشمن کو ذلت آمیز شکست دی اور اب یہ قوم کا جیالا سپوت اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لاہور کے محاذ پر دشمن کے خلاف نبرد آزما تھا۔میجرمنیر احمد ۱۹۲۷ء میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۳ء میں میٹرک پاس کرنے کے بعد فوج میں بھرتی ہو گئے۔۱۹۴۶ء میں جنگ کے اختتام پر انہیں جمعدار کے عہدہ سے سبکدوش کر دیا گیا۔اس کے بعد منیر احمد شہید پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد پاکستان آرمی میں شامل ہو گئے اور کمیشن حاصل کیا۔