تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 105 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 105

تاریخ احمدیت۔جلد 23 105 سال 1965ء ( منیب غلطی سے درج ہو گیا ہے یہ منیر ہے یعنی سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد ) 79 محترم محمد اسلم لودھی صاحب نے اپنی محققانہ تصنیف پاک فضائیہ تاریخ کے آئینہ میں اس بطل پاکستان کی تصویر دے کر لکھا:۔سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد شہید (ستارہ جرات) ۱۹۶۵ء کی جنگ شروع ہوئے چھ دن گزر چکے تھے۔زمین ، فضا اور سمندر میں جنگ پوری طرح زوروں پر تھی۔دشمن کے ہوائی جہازوں کے غول کے غول حملہ آور ہونے کیلئے آتے اور ہمارے فضائی مستعد نگہبانوں کی بہتر نگہبانی کی بدولت اپنے مشن میں نا کام ہو کر واپس لوٹ جاتے۔استمبر کو سرگودھا میں کے ایک آپریشن روم میں امرتسر ریڈار سٹیشن کو تباہ کرنے کی حکمت عملی زیر بحث تھی۔ونگ کمانڈر انور شمیم اپنے ہوا بازوں کو اس خطرناک مہم کیلئے بریفنگ دے رہے تھے۔در اصل امرتسر کا یہ حساس ریڈار مضبوط دفاعی حصار میں تھا اردگرد حفاظت کیلئے بھاری طیارہ شکن تو ہیں نصب تھیں۔جن سے بچنا کسی بھی حملہ آور جہاز کیلئے مشکل تھا۔ونگ کمانڈر انور شمیم نے سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد کو تین مزید پائلٹ اس مشن میں شمولیت کیلئے بلوانے کیلئے بھیجا۔چند منٹ بعد دو پائلٹ آگئے۔ونگ کمانڈ رانور شمیم نے منیر الدین احمد سے مخاطب ہو کر تیسرے پائلٹ کے بارے میں پوچھا منیر الدین نے اپنی طرف اشارہ کر کے کہا کہ سر تیسرا پائلٹ میں حاضر ہوں۔چونکہ منیر الدین احمد کئی خطرناک مشنوں پر پہلے ہی اپنی بہادری کے جو ہر دکھا چکے تھے۔اس لئے ونگ کمانڈر انور شمیم نے انہیں رکنے کیلئے کہا لیکن آپ اس خطرناک مشن پر روانگی کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو چکے تھے۔اس لئے ونگ کمانڈر انور شمیم بھی آپ کو فضائی معرکے میں شریک کرنے پر آمادہ ہو گئے۔بریفنگ کے کچھ ہی دیر بعد چار سیبر طیارے سرگودھا میں سے امرتسر پر حملہ آور ہونے کیلئے اڑے۔امرتسر پہنچنے میں انہیں صرف دس منٹ لگے ہوں گے۔چاروں سیر جونہی امرتسر کی فضا میں پہنچے تو شہر کی حفاظت کیلئے لگی ہوئی طیارہ شکن گنوں نے فائرنگ شروع کر دی۔فضا میں ہر طرف آگ ہی آگ دکھائی دیتی تھی۔سکواڈرن لیڈر منیر الدین احمد دشمن کی زبر دست فائرنگ سے مرعوب ہونے کی بجائے ریڈار پر حملہ کرنے کیلئے نشانہ لے چکے تھے۔جو نہی آپ کا طیارہ ریڈار کے روبرو آیا تو آپ نے بمباری کر کے ریڈار سٹیشن کے پرخچے اڑا دیئے لیکن جب آپ جہاز کو بلندی کی طرف لے