تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 98
تاریخ احمدیت۔جلد 23 98 سال 1965ء پر بمباری کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔خلیفہ منیر الدین کے سپر د پلاننگ کی ڈیوٹی تھی۔دشمن کے ہوائی حملوں کو روکنے کے لئے امرتسر کے ریڈار اسٹیشن کو مسمار کرنا ضروری تھا۔اس سلسلہ میں کئی کوششیں کی گئیں مگر ان میں سے کوئی بھی کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔دشمن کے طیارے روزانہ سرگودھا کے آسمان پر منڈلاتے اور ادھر اُدھر بے نشانہ بم گرا کر بھاگ جاتے۔یہ دیکھ کر خلیفہ منیر الدین کے دل میں دشمن کے ہوش ٹھکانے لگانے کا جذبہ موجزن ہوا اور انہوں نے بڑے پُر جوش انداز میں کہا۔اب میں جاؤں گا اور دشمن کے ریڈار کو تباہ کر کے ہی آؤں گا۔“ اور پھر وہ سچ مچ اپنے ساتھ تین اور شاہینوں کو لے کر آواز کے دوش پر پرواز کر گئے۔آن کی آن میں امرتسر پہنچ کر جب وہ ریڈار پر لپکے۔تو منیر الدین احمد ہی ان کی (بطور ڈپٹی لیڈر ) قیادت کر رہے تھے۔ان کے ہمراہ جانے والے ایک ہوا باز نے بتایا کہ پہلے غوطے میں ریڈار ان کی زد میں نہیں آیا۔اس پر خلیفہ منیر الدین نے گرج کر اپنے ساتھیوں سے کہا میں نے ریڈار کو تاڑ لیا ہے۔اب میں دوبارہ جاؤں گا اور اس کا قلع قمع کر کے ہی آؤں گا“۔اور اب کے جو پاکستان کا یہ دلیر شاہین تنہا اس ریڈار پر بے مثال برق رفتاری سے جھپٹا تو دیکھتے ہی دیکھتے دشمن کا بے حد محفوظ اور مخفی ریڈار آگ کے ہولناک شعلوں کی لپیٹ میں تھا۔لاہور کے مقالہ نگار صلاح الدین خاں رقمطراز ہیں :۔خلیفہ منیر الدین شہید ) اصول وقواعد کے معاملہ میں بڑے رکھ رکھاؤ سے کام لیتے تھے۔مخلص اور ہمدرد دوست ہونے کے باوجود دفتری معاملات میں کبھی لچک نہ آنے دیتے۔بے حد ملنسار اور ڈیوٹی کے معاملہ میں بے حد سنجیدہ تھے۔لیکن اس کے باوجود طبیعت مزاح لطیف سے بے گانہ نہ تھی۔گو اس میں بھی ذاتی وقار کو مجروح کرنے والے رخ سے ہمیشہ مجتنب رہے۔خلیفہ منیر الدین ایک اچھے ہوا باز ہی نہیں ہاکی اور گالف کے بھی بہترین کھلاڑی تھے اور کھیل کے میدان میں تو ان کی لپک اُچک دیکھنے کی ہوتی تھی۔گالف کے تو وہ اتنے رسیا تھے کہ اس میں ناغہ کو اصل ڈیوٹی میں ناغہ سمجھتے تھے۔خلیفہ منیر الدین احمد نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور ایک تین سالہ پیاری سی بچی زاہدہ اپنے رب کی پناہ میں چھوڑیں۔منفی زاہدہ جو ایک عرصہ تک ٹیلیفون اٹھا کر بڑی بے قراری سے پوچھتی رہی ابو! آپ کب۔۔۔۔۔۔