تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 99
تاریخ احمدیت۔جلد 23 99 سال 1965ء آئیں گے۔جلدی آجائیے نا“۔مگر اس معصوم کو کون بتائے کہ زندگی کی سرحدوں کو پھلانگ کر خدا تعالیٰ کی گود میں چلے جانے والے کوٹ کر کبھی نہیں آیا کرتے۔البتہ ان کی جان سپاریوں کے نقوش ننھی زاہدہ کے دل کی طرح تاریخ کے دل پر ابد الآباد تک مرتسم و تا بندہ رہیں گئے۔لکھتے ہیں:۔73- آپ کے حالات تحریر کرتے ہوئے مکرم سردار رحمت اللہ صاحب محلہ دارالرحمت ربوہ ستارہ جرات سکواڈرن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد صاحب شہید ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب مرحوم سول سرجن جو کہ اولین صحابہ کرام میں سے تھے اور حضرت مصلح موعود کے خسر تھے، کے چشم و چراغ تھے اور خلیفہ صلاح الدین احمد مرحوم کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔گھر میں سب سے چھوٹے ہونے اور خوبصورت اور نہایت اچھی عادات کی وجہ سے اپنے پرائے سبھی ان سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ان کے بہنوئی مرزا گل محمد صاحب مرحوم رئیس قادیان کی اس وقت کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے ان کو اپنا بیٹا بنالیا اور نہایت ناز و نعمت سے آخیر دم تک ان کی پرورش کی۔ان کی والدہ محترمہ جو کہ ہماری پھوپھی تھیں قادیان میں نہایت قابل احترام بزرگ خواتین میں سے تھیں۔بہت عقلمند منتظم اور لجنہ اماءاللہ کی سرگرم رکن تھیں۔خلیفہ منیر الدین احمد مرحوم میں بچپن سے ہی شرافت، ہمدردی ، ادب، حب الوطنی ، دلیری اور خدمت کا خاص جذبہ پایا جاتا تھا۔سیر و سیاحت اور شکار کا بڑا شوق تھا یہی شوق بڑے ہو کر انہیں ۱۹۴۹ء میں ائیر فورس میں لے گیا۔نشانہ بازی میں ہمیشہ ممتاز رہتے تھے۔ایک مرتبہ میں نے انہیں باتوں باتوں میں کہا کہ منیر احمد ائیر فورس میں کیا کرتے ہوگے۔وہاں تو بڑے بڑے بہادر انسان ہوں گے۔کہنے لگے بھائی جان! اگر کبھی موقعہ آیا تو آپ مجھے انشاء اللہ سب سے آگے پائیں گے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کر دکھلایا۔میری ان سے آخری ملاقات 9 ستمبر ۱۹۶۵ء یعنی ان کی شہادت سے صرف دو دن پہلے ان کی کوٹھی نمبر ۳ ، ائیر فورس سرگودھا میں ہوئی۔قریباً ایک بجے دن کا وقت تھا جب کہ میں ان کی کوٹھی پر پہنچا۔اس وقت دو پہر کا کھانا کھا رہے تھے۔حسب معمول نہایت ادب اور محبت سے ملے۔کہنے لگے کہ بھائی جان کیا آپ ربوہ سے آرہے ہیں۔گھر تو خیریت ہے نا۔بچوں اور بھا وجہ کا کیا حال ہے۔آپا جان خیریت سے ہیں۔مجھے بھا وجہ