تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 97
تاریخ احمدیت۔جلد 23 97 سال 1965ء خلیفہ منیر الدین احمد صاحب شہید کا کارنامہ شجاعت خلیفہ منیر الدین احمد ایک معزز و معروف خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ان کے والد حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ( صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) لاہور کے میوہسپتال میں ایک عرصہ تک سرجن انچارج رہے۔(حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب انجمن حمایت اسلام لاہور کے بانی خلیفہ حمید الدین کے بیٹے تھے۔) آپ ۸ ستمبر ۱۹۲۵ء کو قادیان میں پیدا ہوئے۔ان کی خوش بختی ہے کہ اس موقع پر حضرت مصلح موعود نے ان کے کان میں اذان کہی۔آپ حضرت مصلح موعود کے برادر نسبتی تھے۔زمانہ طالب علمی ہی سے انہیں ائیر فورس میں شامل ہو کر خدمت قوم و وطن کا شوق تھا۔اسی شوق کے تحت تعلیم الاسلام کالج سے ایف اے پاس کرنے کے بعد انہوں نے ۱۹۴۹ء کے آخر میں فلائنگ کلب لا ہور میں داخلہ لے لیا۔اس وقت اس کلب میں تربیت حاصل کرنے والوں کی تعداد اٹھارہ تھی۔امتحان ہوا۔تو صرف چھ نوجوان کامیاب ہوئے۔خلیفہ منیر الدین ان سب میں اول آئے تھے۔۱۹۵۱ء میں وہ ائیر فورس کے لئے منتخب ہوئے اور کراچی اور رسالپور میں کچھ عرصہ بطور فلائٹ لیفٹیننٹ خوش اسلوبی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔۱۹۶۳ء میں ترقی دے کر انہیں سکواڈرن لیڈر بنادیا گیا۔اور اُس وقت سے تادم آخر وہ سرگودھا میں سکواڈرن لیڈ ر ہی کی حیثیت سے ائیر فورس کی خدمت بجالاتے رہے۔فرائض منصبی کی ادائیگی میں مستعدی اور باقاعدگی ان کا طرہ امتیاز تھا۔ان کے دل کو تو خلوص و محبت کا روشن دیا جائیے۔جنگ کے ایام میں گھڑی دو گھڑی کے لئے گھر آتے۔تو انہیں یہی احساس مضطرب رکھتا کہ کہیں ڈیوٹی پر پہنچنے میں تا خیر نہ ہو جائے۔سکواڈرن لیڈر خلیفہ منیر الدین احمد شہید (ستارہ جرات) جانباز قوم کا ایک نڈر جیالا سپوت تھا۔ایک ایسا دلیر ہوا باز جس کی نگاہوں میں عقاب کی لپک اور سینے میں شیر کا دل تھا۔پاک فضائیہ کا یہ جیالا جوا استمبر ۱۹۶۵ء کو دشمن کی ہوائی طاقت کے ایک قریبی مرکز کو بالکل نہیں نہیں کرتے ہوئے موت سے ہنستا کھیلتا جامِ شہادت پی گیا۔اس وقت اس کی عمر ۳۸ سال تھی۔اس واقعہ کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جن دنوں دشمن کے بزدل ہوا باز سر گودھا کے ہوائی ٹھکانے