تاریخ احمدیت (جلد 23)

by Other Authors

Page 86 of 849

تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 86

تاریخ احمدیت۔جلد 23 86 سال 1965ء حسین ملک کے بھائی اور نامور احمدی جرنیل بریگیڈئیر (بعد ازاں لیفٹیننٹ جنرل ) عبدالعلی ملک کے زیر کمان فوج نے نہایت بے جگری ، حوصلہ مندی اور فرض شناسی کے ساتھ لڑی اور پوری شان کے ساتھ جیتی اور بھارتی فوج کے پہلے آرمرڈ ڈویژن کو شکست فاش دے کر اسے چونڈہ ہی کے میدان میں دفن کر دیا۔معرکہ چونڈہ میں اعلیٰ قائدانہ صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرنے پر بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کو بھی ہلال جرأت عطا کیا گیا۔اس مرد مجاہد کی شجاعت و بسالت کی عظیم داستانیں بھی یقیناً صدیوں تک زندہ و تابندہ رہیں گی۔دفاع پاکستان کے اس شاندار کارنامے کی مزید تفصیلات پاکستان کے مؤرخوں ،مصنفوں اور ادیبوں کے قلم سے پڑھئے۔ا۔جناب نسیم کا شمیری نے اپنی کتاب میں خطہ سیالکوٹ کے غازیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا:۔بریگیڈئیر عبدالعلی ملک کو لے اور ۸ ستمبر کی رات کو دشمن کے خلاف جوابی کارروائی کا حکم ملا اور وہ اپنی مختصر فوج کے ساتھ دشمن پر اس طرح جھپٹے کہ اس کی پیشقدمی روک کر شدید نقصان پہنچایا۔اس کے ٹینکوں اور پیدل فوج کو تہس نہس کر دیا۔دشمن تازہ کمک کے ساتھ تین دن تک آگے بڑھنے کے لئے زور لگاتا رہا لیکن ہر بارا سے اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی۔بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے اس معر کے پر جس دلیری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے اس پر انہیں ہلال جرأت کا اعزاز ملا ہے۔۲۔جناب شریف فاروق صاحب رقمطراز ہیں:۔فورس کمانڈر بریگیڈئیر عبد العلی ملک نے دشمن کی بہت بڑی اور مضبوط وطاقتور فوج کے مسلسل حملوں کے باوجود پاکستانی علاقہ چونڈہ کا بڑی دلیری اور شجاعت سے دفاع کیا۔دشمن نے پاکستانی فوج کی پوزیشن پر کئی دن تک متواتر گولہ باری کی جس سے خوفناک تباہی پھیلی۔عام حالات میں فوج اس تباہ کن گولہ باری کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی لیکن بریگیڈئیر عبدالعلی ملک نے اپنی ذاتی مثالی جرأت اور لیاقت سے نہ صرف فوج میں ڈٹے رہنے اور دشمن کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ پیدا کیا بلکہ دشمن پر مہلک ضربات لگائیں اور اسے مفلوج کر دیا۔صدر نے انہیں ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر ہلال جرأت کا اعزاز عطا کیا“۔۳۔جناب کلیم نشتر صاحب نے حسب ذیل الفاظ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے:۔چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی جو عظیم جنگ لڑی گئی۔اس جنگ میں بریگیڈئیر عبدالعلی نے پاکستانی افواج کی کمان کی اور ایسے کارنامے سرانجام دیئے کہ تاریخ حرب کے ماہرین حیران و ششدر رہ 59 66 58