تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 85
تاریخ احمدیت۔جلد 23 85 سال 1965ء حضرت مصلح موعود کا پیغام احباب جماعت کے نام حضرت خلیفہ اسیح الثانی المصلح الموعود نے احباب جماعت کے نام خصوصی پیغام دیا کہ وہ اپنی شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے ہر قسم کی قربانیاں بشاشت کے ساتھ پیش کریں اور اپنی دعاؤں اور قربانیوں کے ساتھ اپنے محبوب وطن کو متحکم اور نا قابل تسخیر بنادیں۔اس تاریخی پیغام کا مکمل متن یہ ہے۔"بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر احباب جماعت! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته آپ کو علم ہے کہ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور پاکستان میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔میں پاکستان کے تمام احمدیوں کو یہ ہدایت دیتا ہوں کہ وہ اپنی شاندار روایات کو قائم رکھتے ہوئے حکومت پاکستان سے ہرطرح تعاون کریں اور استحکام پاکستان کے لئے ہر قسم کی قربانیاں بشاشت کے ساتھ پیش کرتے ہوئے حب الوطنی کا ثبوت دیں اور اپنے رب رحیم سے دعائیں بھی کرتے رہیں کہ ہمارا وہ مہربان خداحق وصداقت اور انصاف کی فتح کا دن ہمیں جلد تر دکھائے۔کوئی احمدی مرد اور عورت اپنے شہر قصبہ یا گاؤں کو ہرگز نہ چھوڑے سوائے اس کے کہ حکام وقت دفاعی مصالح کے پیش نظر مقامات کو خالی کروانا چاہتے ہوں۔دعاؤں اور قربانیوں کے ساتھ اپنے محبوب وطن کو مستحکم اور نا قابل تسخیر بنادیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام میرزا بشیر الدین محمود احمد معرکہ چونڈہ اور بریگیڈئیر عبدالعلی ملک صاحب کو اہل وطن کا خراج تحسین لاہور پر حملہ کے چوبیس گھنٹے بعد بھارتی فوج نے پہلے سیالکوٹ اور پھر ۶ ، ستمبر کی درمیانی شب کو چونڈہ پر بھی حملہ کر دیا۔بھارتی جرنیلوں نے کم و بیش پانچ سو ٹینک اور پچاس ہزار فوج کے ساتھ بھر پور حملہ کیا۔یہ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ تھی جو میجر جنرل اختر