تاریخ احمدیت (جلد 23) — Page 87
تاریخ احمدیت۔جلد 23 87 سال 1965ء گئے۔بریگیڈئیر عبدالعلی نے دشمن کے ٹینکوں کے پر خچے اڑا دئیے۔ان سیاہ ہاتھیوں کے پر نچے چونڈہ کے میدان میں ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔دشمن یہ ٹینک ڈویژن جھانسی سے سیالکوٹ پر قبضہ جمانے کے لئے لایا تھا لیکن پاکستانی جیالوں نے ان ٹینکوں کے پر خچے اڑا دئیے۔۷، ۸ستمبر کی رات کو دشمن نے چارواہ، معراجکے اور نخنال پر حملہ کیا۔دشمن نے اس حملہ میں ۱۵۰ توپ خانہ کی چار رجمنٹیں اور ۲۵ ہزار پیدل سپاہ استعمال کی۔پاکستانی جانبازوں نے دنیا کی دور حاضرہ میں ٹینکوں کی اس سب سے بڑی جنگ میں راکٹ برسا کر دشمن کے ٹینکوں کے پر خچے اڑا دیئے اور دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچادی۔شکست خوردہ دشمن نے ۱۸ اور ۱۹ ستمبر کی درمیانی رات کو ایک بار پھر قسمت آزمائی کرنے کی کوشش کی لیکن بر یگیڈ ئیر عبدالعلی ملک کی شاندار قیادت میں پاکستانی افواج نے دشمن کونا قابل فراموش نقصان پہنچایا۔جانبازی و سرفروشی کے یہ عدیم النظیر کارنامے اس شاندار قیادت کے مرہون منت ہیں جو بریگیڈئیر عبدالعلی کی فرض شناسی اور بلند ہمتی نے اس محاذ پر سرانجام دی۔بریگیڈئیر عبدالعلی نے اپنے جانثار ساتھیوں کے ساتھ عصر حاضر کی اس عظیم ترین جنگ میں موجودہ دور کے سب سے ذلیل حملہ آور پر اتنی تباہ کن ضر میں لگائیں جسے وہ اور اس کی آنے والی نسلیں ہمیشہ یا درکھیں گی۔انہوں نے اپنی جرات ایمانی کے سہارے مردانگی اور فرض شناسی کے جو دیپ روشن کئے وہ پاکستانی تاریخ میں عزم و ہمت کا ایک روشن مینار بنے رہیں گے۔جن سے مستقبل کے پاکستانی نشانِ 66 راہ پائیں گے۔بریگیڈئیر عبدالعلی ضلع کیمپلپور کے رہنے والے ہیں۔اور میجر جنرل اختر حسین ملک کے بھائی ہیں ان دونوں بھائیوں کو ہلال جرات کا اعزاز دیا گیا ہے۔۴۔پاک بھارت جنگ کے جنگی وقائع نگار جناب اسلم ملک لکھتے ہیں:۔و ٹینکوں کی دوسری بڑی تاریخی جنگ میں چونڈہ کو عالمگیر شہرت حاصل ہوگئی۔اس جنگ میں سپاہی سے لے کر افسر تک ہر ایک قوم کا ہیرو تھا۔ہر ایک اپنی جگہ ایک تاریخ تھا۔ہر ایک اندھیروں کے جگر چھلنی بنانے والا روشنی کا مینار تھا۔پھر بھی جن ہاتھوں میں کمان تھی ، جنہوں نے پہلی ٹینکوں کی عظیم جنگ کی مانند تاریخی کارنامے سرانجام دیئے تھے۔ان میں بریگیڈئیر عبدالعلی ملک، بریگیڈئیر امجد علی خان چودھری ، اور میجر جنرل ابرار حسین کے نام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔اس لڑائی کے دوران میں تمام