تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 69 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 69

تاریخ احمدیت۔جلد 22 69 سال 1963ء آپ نے اختیار کیا ہے گویا احمدیوں کی ضد میں آپ ان سے بھی بغاوت کر رہے ہیں جو آپ کے ہیں مگر ان الفاظ کا بھی بہت کم لوگوں پر اثر ہوا اس لئے کہ وہ تو گھر ہی سے طے کر کے آئے تھے کہ جلسہ میں ابتری پیدا کریں گے تھوڑی ہی دیر میں جلسہ کے باہر بہت کافی مجمع ہو گیا اور لوگوں نے نعرے بلند کرنا شروع کر دئیے جو جماعت احمدیہ کے خلاف تھے مگر اس کے باوجود جلسہ کی کارروائی جاری رہی مگر باہر کے شور وغل کا اثر اب ہال کے اندر بھی پہنچنے لگا۔آخر حاضرین جلسہ میں سے ایک بزرگ نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں جناب صدر سے استدعا کروں گا کہ وہ اس جلسہ کی کارروائی کوختم کر دیں اس لئے کہ ہم کو ذکر حبیب سُنے کے لئے جس سکون کی ضرورت ہے۔وہ یہاں حاصل نہیں ہو رہا ہے۔اس آواز کی تائید اور لوگوں نے بھی کی اور اسی وقت باہر سے پھر ایک طوفان اٹھا۔اب جو نعرے بلند ہو رہے تھے وہ اس خاکسار کے متعلق تھے یعنی شوکت تھانوی مُردہ باد۔ادھر سے کچھ لوگوں نے نعرہ بلند کیا۔شوکت تھانوی زندہ باد۔اور ہم حیران تھے کہ ہم کو ان دونوں میں سے کس مشورہ پر عمل کرنا چاہیئے۔لوگوں نے ہم کو مشورہ دیا کہ آپ پشت کے دروازہ سے نکل جائیے مگر ہم نے اس کو منظور نہ کیا اور اس وقت اپنے دل میں بلا کی جرات پیدا کر کے ہم صدر دروازہ ہی سے باہر نکلے جہاں دورویہ لوگوں کی ایک بہت بڑی بھیڑ ہمارے خلاف نعرے بلند کر رہی تھی مگر ہمارے پہنچتے ہی پھر دو قسم کے نعرے شروع ہو گئے۔شوکت تھانوی مردہ باد اور شوکت تھانوی زندہ باد “ اور ہم اسی طوفان سے گذر کر سواری تک آئے۔بانیان جلسہ نے اسی درمیان پولیس کا بھی انتظام کر لیا تھا مگر ہم نے باہر نکل کر پولیس کو اپنی حفاظت سے روکا اور یہ کہہ کر اس مجمع سے گذرنے لگے کہ میرا فیصلہ ان ہی حضرات کو کرنے دیجئے۔ایک صاحبزادے کچھ حملہ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تھے کہ ان ہی کے چند ساتھیوں نے ان کو روکا اور ہم بخیریت مجمع سے گذر کر اپنے گھر آگئے۔گھر پر اس ہنگامے کی اطلاع پہنچ چکی تھی اور سب بیحد پریشان تھے۔مگر ہم نے گھر جا کر سب کو مطمئن کر دیا کہ دیکھ لو میرے دھڑ پر میرا سر موجود ہے اور میرے تمام اعضاء صیح سالم ہیں۔احمدی : اس سے قبل بھی اس بات کی شہرت تھی کہ شوکت تھانوی قادیانی ہے۔وجہ یہ تھی کہ برادران محترم ڈاکٹر محمد عمر صاحب۔مولوی محمد عثمان صاحب، ڈاکٹر محمد زبیر صاحب اور مولوی محمد طلحہ صاحب ایڈووکیٹ احمدی عقائد رکھتے ہیں اور ان ہی کی حقیقی بھتیجی سعیدہ ہیں چنانچہ یہ عام طور پر خیال تھا کہ ایک احمدی لڑکی غیر احمدی کے نکاح میں نہ آئی ہوگی۔اس لئے کہ احمدی حضرات غیر احمدی لڑکی