تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 70
تاریخ احمدیت۔جلد 22 70 سال 1963ء بیاہ تو لاتے ہیں مگر غیر احمدی کو دیتے نہیں۔اس کے علاوہ اب تک دو مرتبہ ہم قادیان جاچکے تھے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے مل چکے تھے ان کے یہاں دعوت کھا چکے تھے۔بعض احمدی مسائل پر مضامین لکھ چکے تھے۔ان تمام حالات کے ماتحت ہمارے احمدی ہونے کی جو خبر گرم تھی اس کو بلا وجہ تو نہیں کہا جا سکتا خواہ وہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو مگر اس جلسہ کے بعد تو اس روایت پر گویا تصدیق کی مہر بھی لگ گئی اور اب ہمارے احمدی ہونے کا ان سب کو بھی یقین ہو گیا جواب تک مشکوک تھے ہم سے جس کسی نے بھی پوچھا ہم نے یہی جواب دے دیا کہ حضرت سچ پوچھئے تو احمدی ہم آپ سب ہی ہیں احمد ہمارے رسول برحق کا اسم پاک تھا اور ان سے نسبت دینا ہم اپنے لئے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔رہ گیا آپ کا یہ خیال کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود مانتے ہیں یا نہیں اس کے متعلق ہم نے کبھی آج تک غور ہی نہیں کیا ہے البتہ احمدی حضرات کے اسلامی جوش، ان کے اسلامی اصولوں پر سختی سے کاربند ہونے اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے سلسلہ میں ان کی دیوانہ وار سرگرمیوں کو ہم بیشک نہایت قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔مگر اس کے باوجو دلوگ یہی کہتے رہے کہ صاحب یہ کیونکر ممکن ہے کہ شوکت قادیانی نہ ہوں اور سر محمد ظفر اللہ خاں ان کے دیوان پر گول میز کا نفرنس کے اجلاس کی مصروفیتوں کے باوجو د لندن میں بیٹھ کر تبصرہ لکھیں۔خلیفہ صاحب قادیان اپنے خطبہ جمعہ میں ان کی سودیشی ریل کا ذکر کریں۔اور قادیانیوں کا اخبار الفضل ان کا ذکر اپنے کالموں میں کرے مگر ہم نے اپنی احمدیت کی اس شہرت پر سنجیدگی کے ساتھ کبھی غور نہیں کیا۔اس لئے کہ اول تو ہم مذہبی آدمی نہیں ہیں دوسرے اگر مذہبی آدمی ہوتے بھی تو مذہب کے معاملہ میں خدا کو یقین دلانے کی کوشش کرتے نہ کہ اس کے بندوں کو ، مذہب تو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ایک رشتہ کا نام ہے یہ کوئی سوسائٹی کی چیز نہیں۔122 66 مشرقی پنجاب (بھارت) کی ایک کتاب میں جماعت احمدیہ کا ذکر ۱۹۶۳ء کے آغاز میں مشرقی پنجاب کے ایک سکھ مؤلف پروفیسر گنڈا سنگھ صاحب نے پنجابی زبان میں اپنی کتاب پنجاب کے صفحہ ۶۸ پر تحریر کیا کہ:۔”مرزا صاحب نے جب اپنا مشن شروع کیا تو بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔شروع میں انگریزی سرکار نے بھی اپنے راج کے خلاف سمجھ کر آپ کی مخالفت کی لیکن یہ پودا بڑھتا گیا۔مرزا صاحب