تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 68
تاریخ احمدیت۔جلد 22 68 سال 1963ء نہایت قلیل معاوضہ پر کام کر رہے تھے۔برادر محترم مولوی محمد عثمان صاحب نے ہم دونوں کی تواضع اور 121 66 آرام کا ہر ممکن انتظام ہر جگہ کیا اور آخر ہم سب ایک رائے قائم کر کے وہاں سے واپس ہوئے۔۴۔جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر سال جلسہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوا کرتا تھا اور ہر جلسہ میں ہم ایک نظم پڑھا کرتے تھے۔مسلسل چار سال تک ہم نے جلسہ میں نظمیں پڑھی تھیں اور اب تک اس جلسہ کے سلسلہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہ تھا۔چنانچہ جس جلسہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس کے لئے صدر ہم کو منتخب کیا گیا تھا اور لکھنو میں اس جلسہ کے خلاف یہ پرو پیگنڈا ہورہا تھا کہ یہ قادیانی جلسہ سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پردے میں دراصل اپنی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی چالا کیوں کو مسلمان سمجھتے نہیں بلکہ اس دھو کے میں چلے جاتے ہیں کہ یہ جلسہ سیرۃ ہے۔مگر ہم پر اس پروپیگنڈے کا کوئی اثر نہ تھا ہمارے پاس بھی لوگ آئے اور ہم کو منع کیا۔مگر ہم اپنی رائے پر قائم رہے کہ یہ ذکر رسول ہے اور ذکرِ رسول خواہ کسی جماعت کی طرف سے بھی ہو ہر مسلمان کے لئے باعث کشش ہونا چاہئے۔سمجھ میں نہ آیا کہ آخر اب اختلاف کی کیا وجہ پیدا ہوگئی۔اب سے پہلے ہر سال بڑے بڑے غیر احمدی علماء نے اس جلسہ میں شرکت کی تھی۔غیر مسلم مقرراس میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر اپنے خیالات پیش کرتے تھے۔شیعہ اور سنی علماء ہر مرتبہ شریک رہے تھے۔مگر اب اس جلسہ کو یکا یک احمدی حضرات کا ایک داؤں سمجھ لیا گیا تھا۔بہر صورت ہم نے کسی کی ایک نہ سنی اور جلسہ کی صدارت کرنے مقررہ وقت پر گنگا پر شاد میموریل ہال پہنچ گئے۔اس وقت بھی ہال کے دروازہ پر ایک قسم کی پکٹنگ ہو رہی تھی۔لوگوں کو جلسہ کی شرکت سے روکا جار ہا تھا مگر اس کے باوجود جلسہ میں حاضرین کی تعداد کافی تھی۔ہم نے ایک مختصر سے خطبہ صدارت کے بعد جلسہ کی کارروائی شروع کر دی۔مگر حاضرین جلسہ میں بہت سے حضرات اسی غرض سے آئے تھے کہ جلسہ میں ابتری پیدا کریں چنانچہ ہال کے اندر ہی کچھ لوگوں نے شور و غل شروع کر دیا۔ہم نے ایک مختصر تقریر میں پھر لوگوں کی توجہ اس طرف مبذول کی کہ آپ حضرات سینما ہاؤسز میں خاموش بیٹھ سکتے ہیں۔اور تماشہ کے اختتام پر خدا بادشاہ کو سلامت رکھنے والا ترانہ نہایت ادب سے کھڑے ہو کر سنتے ہیں مگر یہاں اس وقت شہنشاہ دو عالم کا ذکر ہو رہا تھا اور آپ اس کو خود سنا تو در کنار دوسروں کو بھی سننے دینا نہیں چاہتے۔فرض کر لیجئے کہ یہ جلسہ احمدیوں کا ہے مگر ذکر کن کا ہو رہا ہے۔جن کے نام لیوا آپ بھی ہیں اور رویہ