تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 67
تاریخ احمدیت۔جلد 22 67 سال 1963ء تبصرے میں کسی ایک موقع پر بھی ہمارے کسی شعر کو کسی ایسے رنگ میں پیش نہیں کیا ہے جو ہمارے مفہوم سے علیحدہ ہومگر بات یہ بالکل سچی کہی ہے کہ شاعر کچھ کہتا ہے اور سمجھنے والے اس کو اپنے اپنے رنگ میں سمجھا کرتے ہیں۔ہماری ایک ممانی صاحبہ ہیں آپ پڑھی لکھی تو خیر نہیں ہیں مگر خن شناس بہت ہیں۔ہمارے شعر سننے کا بڑا شوق ہے اور ہر شعر سن کر یہی ایک بات ہمیشہ کہی کہ چاہے اس شعر کو ادھر لے جاؤ چاہے اُدھر لے جاؤ۔مطلب ہوتا ہے ادھر اُدھر کا حقیقت اور مجاز مگر یہ باتیں تو وہ جانتی نہیں البتہ ادھر ادھر کی مختلف شرحیں دیکھ کر کر لیجئے۔کاش غالب خود زندہ ہوتے اور اپنا مفہوم خود بھی بیان کر سکتے۔“ طوفان تبسم اپنی بکڈپو قائم کرنے کا مستقل خیال تھا۔اب تک ہماری تین کتابیں نکل چکی تھیں موج تبسم اور بحر قسم نسیم انہونوی صاحب نے چھاپی تھیں۔سیلاب تبسم صدیق بکڈ پو نے لہذا چوتھا مجموعہ طوفان تبسم اور گہرستان ہم نے خود چھاپے طوفان قسم کے لئے بھی برادر محترم مولوی محمد عثمان صاحب احمدی نے سرمایہ کا انتظام ایک ایسے بزرگ کے یہاں سے کرادیا۔جن کی پہلی شرط یہی تھی کہ اس کے نام کو اچھالا نہ جائے مولوی محمد عثمان صاحب احمدی نے ہماری تعمیری زندگی میں بہت کچھ ہاتھ بٹانا چاہا اور بہت کوشش کی کہ ہم کسی طرح اپنے پیروں پر کھڑے ہو جائیں مگر وہ بیچارے کیا کرتے۔مری تعمیر میں مضمر تھی اک صورت خرابی کی۔ع 120 ۳۔پنجاب کا دوسرا سفر روز نامہ ”حق“ کی ملازمت ہی کے درمیان ہم کو پھر قادیان جانا پڑا۔لکھنو میں احمدیت کے خلاف جو پرو پیگنڈا ہو رہا تھا۔اسی سلسلہ میں مولوی محمد عثمان صاحب احمدی نے ”حقیقت کے ایڈیٹر انیس احمد صاحب عباسی کو اور اس خاکسار کو دعوت دی کہ آپ لوگ قادیان چل کر وہاں کے حالات کا خود مطالعہ کریں اور اپنے اس مطالعہ کی روشنی میں اگر مناسب سمجھیں تو کچھ لکھیں۔انیس احمد صاحب عباسی نے اور ہم نے علیحدہ مشورہ کیا اور آخر اس دعوت کو منظور کر لیا۔۔۔۔اس مرتبہ قادیان پہنچ کر ہم لوگوں نے نہایت تفصیل کے ساتھ ہر شعبہ کو تنقیدی نظر سے دیکھا۔خود حضرت صاحب سے ملے اور دعوت بھی ان کے ساتھ کھائی۔ہمارے اعزاز میں ایک مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔اسکول کو دیکھا اور حضرت صاحب کی مکمل سیکرٹریٹ کی سیر کی۔جہاں ہر ایک شعبہ کا ایک علیحدہ ناظم تھا اور جتنے ناظم تھے وہ سب نہایت ایثار کے ساتھ اپنی اعلیٰ قابلیتوں کے باوجود