تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 66 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 66

تاریخ احمدیت۔جلد 22 66 سال 1963ء گہرستان کی ایک جلد برادر محترم مولوی محمد عثمان صاحب احمدی نے آنریبل چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان کو بھی بھیج دی تھی۔چوہدری صاحب نے اس کتاب کو گول میز کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے اپنے ساتھ رکھ لیا اور اس پر عجیب حالات میں تبصرہ لکھ کر بھیجا جو رسالہ نیرنگ خیال لاہور میں چھپ چکا ہے یوں تو گہرستان پر علامہ سر محمد اقبال، سر شاہ محمد سلیمان چیف جسٹس اللہ آباد ہائی کورٹ ، سر محمد مزمل اللہ خان، سرسید لیاقت علی وغیرہ بہت سے بزرگوں نے تبصرہ کیا تھا مگر سرمحمد ظفر اللہ کا یہ تبصرہ رسمی اور فرمائشی قسم کا نہ تھا۔سر ظفر اللہ نے فرمایا کہ یہ کتاب ایک سوٹ کیس میں رکھی ہوئی تھی اور وہ سوٹ کیس اسی سفر میں ایک جگہ سمندر میں جاگرا۔بمشکل تمام اس کو نکالا گیا اور گہرستان کو پھر میں احتیاط کے ساتھ اپنے ہمراہ لے گیا۔اسی تبصرہ میں ایک جگہ سر ظفر اللہ نے ایک عجیب بات فرمائی ہے۔میں تو شوکت صاحب کی دلی کیفیات کا اندازہ کر کے خوش ہو رہا ہوں اور لطف اندوز بھی اور ساتھ ہی ساتھ مجھے یقین بھی ہے کہ شوکت صاحب کو یہ احساس ہوگا کہ میں ان کے تخیل کی پرواز اور فکر کی گہرائیوں سے بالکل بے بہرہ ہوں۔صاحب کلام ایک کیفیت کا اظہار ایک خاص ترکیب الفاظ سے کرنا چاہتا ہے۔پڑھنے والے اور سننے والے اپنے اپنے ذوق اور ظرف کے مطابق اس سے استفادہ کرتے ہیں۔اگر شوکت صاحب کے فکر و تخیل کا مالک ہوتا تو میں بھی اپنی کیفیات قلبی کو مزین الفاظ اور مرصع ترکیبوں میں ادا کر سکتا۔اس اقتباس کے بعد ایک لطیفہ پیش کیا جاتا ہے کہ بریلی کے ایک رئیس اکثر اس خاکسار سے کلام سنانے کی فرمائش کیا کرتے تھے اور اس خاکسار کا دم نکل جایا کرتا تھا اس فرمائش پر ، اس لئے کہ پھر شروع ہو جاتے تھے ان کے وہ تبصرے جن کا ہمارے بیچارے شعر سے دُور کا تعلق بھی نہ ہوتا تھا۔کہنے لگے میاں ٹھہر و دوسرا مصرعہ ابھی نہ پڑھنا۔پتہ بھی ہے تم کو کیا کہ دیا ہے تم نے یہ کہا ہے یہ کہا ہے اور یہ کہا ہے یعنی جو ہم نے نہیں کہا تھا وہ سب یہ بزرگ فرما جاتے تھے اور آخر میں کہتے تھے کہ اب تم ہی بتاؤ کہ اس کے بعد دوسرے مصرعے کی کیا ضرورت رہ سکتی ہے پہلا ہی مصرعہ مکمل شعر ہے اور دوسرا مصرعہ محض بھرتی کا ہوگا۔جب دوسرا مصرعہ سنایا تو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا آنکھیں بند کر کے کچھ غور فرمایا۔اور ایک دم چونک کر بولے نہیں صاحب دوسرے مصرعے نے حالات ہی بدل دیئے۔اب اس شعر کا مفہوم یہ ہوا۔یہ ہوا اور یہ ہوا۔یعنی جو کچھ نہیں ہوا تھا وہ بیان فرما گئے۔سر محمد ظفر اللہ خان نے اس