تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 56
تاریخ احمدیت۔جلد 22 56 سال 1963ء سوالوں کا جواب حضرت بانی سلسلہ سے لکھوایا جو اجلاس میں سنوایا گیا۔میں نے ایک ایڈیٹوریل لکھا: موہوم دل آزاری کی آڑ لے کر ہزار احتیاط کے باوجود اس اداریئے کے لب ولہجہ میں تلخی و تندی کا آجانا یقینی تھا۔چیف سیکرٹری صاحب (جناب وہاب الدین عباسی) کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے مجھے نوٹس دیا کہ گیارہ دن کے اندر اندر آپ آ کر جواب دیں کہ آپ کا پرچہ کیوں نہ بند کر دیا جائے جس کی زبان استقدر تلخ ہے۔“ گیارہ دنوں میں صرف ایک پر چہ نکل سکتا تھا میں نے تازہ شمارہ کیلئے ایک نظم کہہ کر سر ورق پر شائع کر دی اس کا مطلع تھا: تقدیس کی کو ضبط ارادت کی جلا ضبط اس شہر وفا میں ہوئی ہر رسمِ وفا ضبط اس ادارئیے اور نظم کی اشاعت کے بعد میں عباسی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو کوئی آدھ گھنٹے کی حیث بحث کے بعد آخر طے پایا کہ میں اُن سے تقریر لکھنے کی چٹ لے جاؤں اور تقریر لکھنے کے بعد کتاب کے بارے میں جو گزارشات کرنا چاہوں کر آؤں۔اسی شام میں نے کوثر نیازی صاحب کو دفتر میں بلایا۔جی بھر کر انہیں مرغوب مچھلی کھلائی اور کہا کہ تمہاری برداشت کی طاقت کس قدر کمزور ہے کہ جس کتاب کو انگریز نے ۷۰ سال تک برداشت کیا اسے تم چند سال بھی نہ کر سکے حالانکہ اس میں لفظ ”احمد بیت“ تک نہیں ہے جواب ملا ”میں لکھ نہیں سکتا، میں نے کہا پرسوں ایڈیٹرز کا نفرنس ہے اُس میں یہی ذکر کرو۔کہنے لگے ” تم کیوں نہ کرو میں نے کہا میری چیف سیکرٹری صاحب سے ملاقات ہو چکی ہے اب میں اگر ذکر چھیڑروں گا تو وہ فوراً فرما دیں گے کہ آپ سے تو بات ہو چکی ہے۔بہر حال میں نے ایڈیٹرز کا نفرنس میں اپنی نشست کا ایسا اہتمام کیا کہ اگر ایک طرف کوثر نیازی تھے تو دوسرے طرف آغا شورش کا شمیری اور خود دوسرے دن عباسی کی چٹ لے کر گورنر کے دربار میں جا پہنچا۔نواب صاحب کا معمول تھا وہ دریافت کرتے : ”اوئے منڈیا کافی پیئیں گالستی کہ چائے۔“ اس دن میری طبیعت بھی بھری ہوئی تھی انہوں نے معمول کے مطابق پوچھا مگر مجھ سے کوئی معقول جواب بن نہ پڑا جس پر نواب صاحب نے دریافت کیا : ” منڈیا توں کھر اوا کیوں ویخ ریا ایں