تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 57 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 57

تاریخ احمدیت۔جلد 22 57 سال 1963ء جیہڑی گل کرنی اسے کھل کے کر۔میں نے عرض کیا کہ: ”جناب ایہہ کتاب ضبط کر کے آپ نے اپنا ہی کچھ نقصان کیا ہے۔کیا غلام غوث ہزاروی کی خواہش کی تکمیل کسی اور رنگ میں نہیں ہو سکتی تھی۔“ فرمایا! ' غلام غوث ہزاروی کی مجھے کیا تکمیل خواہش منظور تھی اور کیوں؟“ عرض کیا : ”اس نے نواب مظفر خاں کے الیکشن میں انکی مدد کی تھی۔“ تمہارا مطلب یہ ہے کہ غلام غوث ایسے مولویوں کی خاطر میں اپنے صوبے کا نظام درہم برہم کر لوں۔ایسا ہر گز ممکن نہیں اب تو بتا کہ ہم نے اپنا کیا نقصان کیا ہے؟“ عرض کیا یہ ایک غریب جماعت ہے جس کا ہر فرد ہر نماز میں دعا مانگتا رہتا ہے اللہ حکومت وقت کو مضبوط 66 رکھنا۔وہ دعا تو اب بھی مانگتا رہے گا کہ اس کے امام کا حکم ہے لیکن وہ پہلی سی بشاشت اس میں نہیں ہوگی۔“ ”آپ نے شاید کتاب دیکھی نہیں یہ دیکھیں اس میں تو لفظ ” احمدیت تک نہیں ہے۔کہنے لگے۔یہ کتاب تو ضبط ہو چکی ہے۔“ عرض کیا : گورنمنٹ ہاؤس میں تو کچھ ضبط نہیں ہوتا۔“ اب تقریر کی ریہرسل بھی ہو چکی تھی میں نے کھڑے ہو کر کچھ عرض کرنا چاہا تو بولے۔تو بھی نراشا عر ہی ہے۔عباسی صاحب سے کہہ کتاب واگزار کر دیں۔“ عرض کیا: ” پرسوں عباسی صاحب نے فرمایا تھا کہ نواب صاحب کی خدمت میں عرض کرنا۔“ فرمایا: ”عباسی صاحب سے کہو نواب صاحب نے کہا ہے کہ کتاب واگزار کر دو۔“ اگلی صبح ایڈیٹرز کا نفرنس تھی محفل جمتے ہی کوثر نیازی نے اتنا ہی کہا تھا کہ جناب مرزا غلام احمد کی کتاب" آراے پی پی کے احمد بشیر صاحب نے مصرع اٹھا لیا اور کہا: ” ہمارے تو احتجاجی خطوط سے میز بھرے پڑے ہیں۔“ اس پر مجید نظامی صاحب نے بھی یہی فقرہ دہرایا اس پر عباسی صاحب نے محمد علی شاہ ہوم سیکرٹری کو بلوایا اور ان سے کہا کہ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب نامی کتاب کی واگزاری کا نوٹیفیکیشن کر دیں۔66 101