تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 55 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 55

تاریخ احمدیت۔جلد 22 55 سال 1963ء کرتا ہے۔اپنائیت اور اعتماد کے اتنے گہرے اظہار کے باوجو د حکومت کا اتنا طویل عرصہ تک خاموشی اختیار کئے رکھنا در دو کرب اور قلبی اذیت میں اضافہ کا موجب ہے۔اتنے ہمہ گیر اور اعتماد کے آئینہ دار احتجاج کی موجودگی میں جس میں جماعت احمدیہ کے افراد، بیرونی ممالک کے نو مسلم، غیر از جماعت دردمند مسلمان حتی کہ خود بعض عیسائی لیڈر بھی شامل ہیں حکومت کا یہ اولین فرض ہو جاتا ہے کہ وہ بلا تاخیر ضبطی کے حکم کو واپس لے کر اُس بے چینی کو دور کرے جو اس کے اس ناروا اقدام کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ہم انصاف اور اسلام کے نام پر حکومت سے پُر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تائید وحمایت اسلام میں لکھی ہوئی کتاب کی ضبطی کے حکم کو واپس لینے کے فیصلہ کا جلد تر اعلان کرے۔تا اس وقت جو بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور فیصلہ کے اعلان میں تاخیر کی وجہ سے جس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔وہ دور ہو اور ایک ناروا اقدام کی جلد تر تلافی نہ صرف ملک کے اندر بلکہ دنیا بھر میں ملک کی نیک نامی کا موجب بنے۔ہمیں یقین ہے کہ ہماری یہ دردمندانہ آواز صدا بصحر اثابت نہ ہوگی اور حکومت فی الفور ضبطی کے حکم کی واپسی کا اعلان کر کے لاکھوں مجروح دلوں پر تسکین کا چھایا ر کھے گی۔اے کاش ہماری حکومت اس معاملہ میں تاخیر کی کرب انگیز اذیت کا خاتمہ کرے اور تائید وحمایت اسلام کے معاملہ میں خود اپنی در دمندی کا ثبوت دے اور بلا توقف فیصلہ کر کے زخمی دلوں پر مرہم کا 66 پھایا ر کھے۔“ ایڈیٹر ہفت روزہ لاہور کا بیان مکرم ثاقب زیروی صاحب اس ضبطی کے حوالے سے ایک تاریخی واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:۔جناب امیر محمد خان (نواب آف کالا باغ) بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ان کے عہد میں ان کے ہوم سیکرٹری کی کوشش سے حضرت بانی جماعت احمدیہ کی ایک مختصر سی کتاب "سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ضبط کر لی گئی۔ان دنوں نواب صاحب کی تقریریں لکھنے کی ڈیوٹی میری تھی۔میں نے کتاب کی ضبطی سے متعلق خبر پڑھی تو خون کھول گیا کہ یہ کتاب عیسائیوں کے خلاف ہے انگریز نے ستر سال تک اسے برداشت کیا۔پاکستان کی حکومت سے چند سال بھی یہ برداشت نہ ہو سکی حالانکہ اس ساری کتاب میں لفظ ”احمدیت تک نہیں ہے۔انجمن حمایت اسلام‘ والوں نے ان چار