تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 663 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 663

تاریخ احمدیت۔جلد 22 663 سال 1964ء حضرت مصلح موعود نے آپ کی شاندار خدمات کے پیش نظر منظوری عطا فرمائی کہ آب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قطعہ خاص میں دفن کئے جائیں۔چنانچہ حسب ارشاد مبارک آپ بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص میں سپردخاک کئے گئے۔مکرم محمد داؤ د طاہر صاحب سابق انکم ٹیکس آفیسر جو کئی کتابوں کے مصنف ہیں آپ ہی کے فرزند ہیں۔شیخ عمری عبیدی وزیرتعمیرات و ثقافت ملی تانگانیکا ( تنزانیہ مشرقی افریقہ) 103 ولادت : ۱۹۲۴ء بیعت : ۱۹۳۹ء وفات ۹ / اکتوبر ۱۹۶۴ء۔مجاہد احمدیت شیخ عمری عبیدی صاحب براعظم افریقہ کے چمکتے ہوئے ستارے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا مجسم نشان اور مولانا شیخ مبارک احمد صاحب مبلغ مشرقی افریقہ کے مایہ ناز شاگرد تھے۔آپ ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئے۔جنوری ۱۹۳۰ء میں سکول میں داخلہ لیا۔۴۰-۱۹۳۹ء میں کشتی نوح کے ترجمہ سواحیلی سے متاثر ہو کر احمدیت قبول کی۔جس کے بعد آپ کی زندگی میں زبر دست علمی و عملی انقلاب برپا ہو گیا۔۱۹۴۱ء میں آپ محکمہ ڈاک و تار میں ملازم ہوئے۔لیکن دو سال بعد مولا نا شیخ مبارک احمد صاحب کی پر زور تحریک پر استعفیٰ دے کر اپنی زندگی احمدیت کے لئے وقف کر دی۔اور یکم اکتوبر ۱۹۴۳ء سے احمدی مبلغ کے فرائض بجالانے لگے۔نومبر ۱۹۴۳ء سے ترجمہ قرآن سواحیلی اور دوسرے علمی کاموں میں جناب شیخ صاحب کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔۱۹۴۶ء میں کسومو میں بغرض تبلیغ بھجوائے گئے۔۱۹۵۳ء میں سواحیلی ترجمہ کی اشاعت کے جلد بعد آپ مرکز احمدیت ربوہ میں تشریف لائے اور ۳۱ دسمبر ۱۹۵۵ء کو جامعہ احمد یہ ربوہ کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہوئے اور ۲۴ را پریل ۱۹۵۶ء کو واپس عازم وطن ہوئے۔جہاں آپ دار السلام مشن کے انچارج کی حیثیت سے نہایت زور وشور سے اشاعت دین میں منہمک ہو گئے۔مشنری ٹرینگ کالج کی بنیاد رکھی اور جماعتی خدمات کے ساتھ ساتھ اپنے قوم و وطن کی بھر پور تر جمانی اور خدمت میں پُر جوش حصہ لینے لگے۔اور پورے ملک میں ان کا نام گونجنے لگا۔آپ پہلے افریقن تھے جو دارالسلام کے لارڈ میئر کے عہدہ پر فائز کئے گئے۔آپ کی پارلیمینٹری تقاریر نے ملک بھر کے دانشوروں کو آپ کا گرویدہ بنا دیا۔اگست ۱۹۶۱ء میں آپ کو افریقن باشندوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے انگلستان بھجوایا گیا۔۲۳ فروری ۱۹۶۲ء کو آس ٹانگانیکا کے وزیر انصاف کے عہدہ پر فائز ہوئے۔۳ مارچ ۱۹۶۳ء کو آپ وزیر تعمیرات و ثقافت ملتی