تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 664
تاریخ احمدیت۔جلد 22 664 سال 1964ء مقرر کئے گئے۔جماعت احمدیہ اور افریقن ممالک نے آپ جیسی عظیم شخصیت سے بڑی بڑی تو قعات وابستہ کر رکھی تھیں مگر خدا کی تقدیر کچھ اور ہی فیصلہ کر چکی تھی۔اس عہدہ پر آپ کو فائز ہوئے ابھی ڈیڑھ سال کا مختصر عرصہ ہی ہوا تھا کہ آپ کو آسمانی بلاوا آ گیا اور احمدیت کا یہ بطل جلیل چالیس سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی کے حضور حاضر ہو گیا۔آپ کی وفات سے پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔آپ کی نعش پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دی گئی۔جنازہ کے جلوس میں صدر جمہوریہ ٹا نگانیکا، کینیا اور یوگنڈا کے وزرائے اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہوئے اور ملک بھر میں جھنڈے سرنگوں کر دیئے گئے۔اولاد: رضیہ۔بکری عبیدی ( واقف زندگی ہیں اور بطور مربی کام کر رہے ہیں )۔امی (بیٹی)۔سہیل۔عامر۔عادل - شفیع۔آپ کی اندوہناک وفات پران نگانیکا اور زنجبار کے صدر ہز ایکسیلینسی مسٹر جولیس نیر میرے نے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:۔It was with very deep personal sadness that I have to announce that Sheikh Amri Abedi died in Germany last night, October 9۔This is a personal loss to those many of us who were his friends over a long period۔It is also a great loss to our nation۔Sheikh Amri Abedi's service, first to TANU, then to the city of Dar-es-Salaam and to the Government, have made a great contribution to our progress۔In addition to this his great work in promoting and developing our national language, Swahili, will carry forward his memory throughout our history۔His great abilities and his dedication have been placed unstintingly at the service of the people of this country۔We can ill afford this gap in our midst۔" 104 ترجمہ: ”میں نہایت ہی گہرے رنج اور دلی تأسف اور افسردگی میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ شیخ عمری عبیدی صاحب گذشتہ رات مورخہ 9 اکتو بر جرمنی میں وفات پاگئے ہیں۔ہم میں سے ان بہت سے لوگوں