تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 662 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 662

تاریخ احمدیت۔جلد 22 662 سال 1964ء کسی اور کتاب کی تلاش کے لئے میں نے کتابوں کی ایک الماری کھولی۔اس میں چند کتابیں بے ترتیب طور پر گری ہوئی تھیں۔انہیں ٹھیک کرنے کے لئے اٹھایا تو ان میں سے ایک کتاب مل گئی۔جس کے لائبریری میں ہونے کا بھی مجھے علم نہ تھا۔اسے کھول کر دیکھا تو اس میں اکثر وہ حوالے موجود تھے جن کی مجھے ضرورت تھی۔غرض اس طرح حوالوں کا ملنا ایک الہی تصرف ہوتا ہے۔ورنہ تھوڑی دیر میں ایسے حوالے نہیں نکل سکتے۔بلکہ ان کے لئے گھنٹوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔معترض صاحب اس بات پر غور کر لیں کہ مجالس شوری کی رپورٹوں کا حجم کوئی زیادہ نہیں ہے۔مگر اس کے حوالے زیادہ تر انہیں اور ان کے بھائی صاحب کو ہی یاد ہیں۔باقی لوگوں کو یاد نہیں۔اس سے وہ سمجھ سکتے ہیں کہ حوالہ جات کا علم کتنا ضروری ہوتا ہے اور کس قدر کم لوگوں کو ہوتا ہے۔پھر اگر کسی کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تحریرات سے نہایت مفید اور با موقعہ حوالہ جات کا انتخاب کرنے میں مہارت رکھتا ہے تو اس کی محنت کو معمولی قرار دینا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے۔آپ ایک بلند پایہ ادیب، محقق اور مؤلف بھی تھے اور چشمہ عرفان بجواب تحریک قادیان“ اور «طبی نسخہ جات جیسی معرکۃ الآراء کتابیں آپ ہی کے قلم سے نکلی ہوئی ہیں۔علاوہ ازیں آپ نے حضرت مولانا عبید اللہ صاحب بسمل اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مفصل اور مبسوط سوانح حیات بھی رقم فرمائے جو بالترتیب اخبار الحکم اور اخبار الفضل کی متعدد قسطوں میں اشاعت پذیر ہوئے۔مولا نا عبد القادر صاحب مربی سلسلہ نے اپنی کتاب ”حیات بشیر کے پہلے باب میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے جو حالات درج کئے ہیں وہ آپ ہی کے تحریر فرمودہ ہیں۔جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے آپ کے اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا:۔102 در تعجب ہوتا ہے کہ مختلف اخباروں، کتابوں، رسالوں، رپورٹوں اور پمفلٹوں سے بھر پور ایک ایسا مکمل مضمون مولوی صاحب مرحوم نے اتنے قلیل عرصہ میں کس طرح لکھ لیا۔سوائے اس کے کہ یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مولوی صاحب کی ذات میں مختلف حوالوں کو کم سے کم مدت میں فراہم کرنے کی حیرت انگیز قوت رکھی تھی اور کسی امر پر اس کو محمول نہیں کر سکتے“۔آپ کی وفات ۱٫۵ کتوبر ۱۹۶۴ء کو ہوئی۔