تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 661
تاریخ احمدیت۔جلد 22 661 سال 1964ء ہوں کہ خطبہ کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات نکالے گئے ہیں تو میں بے اختیار کہہ اٹھتا ہوں کہ جس رنگ میں یہ حوالہ نکالا گیا ہے میں تو اسے خدا کا فضل سمجھتا ہوں۔خطبہ میں آج پڑھتا ہوں مگر خطبہ کے عین مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر جو سالہا سال پہلے کی ہوتی ہے نکال کر سامنے پیش کر دی جاتی ہے۔اور یہ ایسا کام ہے جو بہت ہی قابل تعریف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سو کے قریب کتابیں ہیں۔پھر الحکم اور بدر کے بیسیوں فائل ہیں۔ان تمام مجموعہ کتب میں سے خطبہ کے مضمون کے عین مطابق حوالہ نکال لینا ایک ایسی خوبی ہے جس کی جس قدر بھی تعریف کی جائے کم ہے۔مجھے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت سے علوم عطا فرمائے ہیں۔اور کئی قسم کے فنون میں میں ملکہ رکھتا ہوں۔مگر بعض دفعہ اور مجالس میں بھی میں اس کا اظہار کر چکا ہوں کہ جس رنگ میں یہ شخص حوالے نکالتا ہے یہ ایک ایسا کمال ہے کہ اس پر مجھے رشک آتا ہے۔مگر معترض صاحب نے سمجھا کہ شاید یہ کام آپ ہی آپ ہو جاتا ہے۔حالانکہ حوالہ جات نکالنے اور پھر مضمون کے مطابق حوالہ جات نکالنے میں بہت بڑی محنت صرف ہوتی ہے۔یہی دیکھو قرآن کریم کی کئی کا پیاں چھپی ہوئی موجود ہیں مگر بعض دفعہ ایک ایک آیت نکالنے کے لئے دو دو گھنٹے لگ جاتے ہیں۔جلسہ سالانہ پر میں زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے تقریر کرتا ہوں مگر وہ تقریر ایک لمبی تحقیق کا نتیجہ ہوتی ہے۔اس دفعہ مجھے نوٹ لکھنے کے لئے فرصت نہیں ملتی تھی۔میں نے اس کا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے ذکر کیا تو وہ ہنس کر کہنے لگے۔میں نے تو دیکھا ہے۔جب حضور کو فرصت نہ ملے اس وقت خدا تعالیٰ کی خاص تائید ہوتی ہے۔چنانچہ واقعہ میں ایسا ہوا کہ جب میں نوٹ لکھنے بیٹھا جس کے لئے بہت سے حوالوں کی ضرورت تھی۔تو وہ حیرت انگیز طور پر جلد جلد نکلتے گئے۔بعض دفعہ میں کتاب کھولتا تو اس کا وہی صفحہ نکل آتا جس کی مجھے ضرورت ہوتی۔حتی کہ ایک عجیب بات یہ ہوئی کہ بعض حوالہ جات کی ضرورت پیش آتی مگر میرا ذہن ادھر نہ جاتا تھا۔کہ وہ حوالہ جات کس کتاب میں سے ملیں گے۔ارادہ تھا کہ بعض اور دوستوں کو بلا کر حوالہ جات کی تلاش کا کام سپر د کروں۔کہ اتفاقاً