تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 660 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 660

تاریخ احمدیت۔جلد 22 660 سال 1964ء پاس جو خطوط آتے ہیں ان پر ہمیشہ میں قلم سے جواب لکھ دیا کرتا ہوں۔مگر میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ میرے قلم سے لکھے ہوئے الفاظ دفتر والوں سے نہیں پڑھے جاتے۔اور وہ میرے پاس آکر پوچھتے ہیں کہ یہ آپ نے کیا لکھا ہے۔اس وقت عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ بعض دفعہ اپنا لکھا ہوا مجھ سے بھی نہیں پڑھا جاتا۔حالانکہ میں نے وہ اس قدر جلدی میں نہیں لکھا ہوتا۔مگر خطبہ تو شروع سے آخر تک پنسل سے لکھا جاتا ہے۔پس اس کے پڑھنے اور صاف کر کے لکھنے میں انہیں بہت بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔اتنی بڑی محنت کے بعد جب خطبہ نمبر شائع ہوتا ہے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس میں الفضل والوں کا کیا کام ہے۔کچھ بھی نہیں۔اور اس طرح خیال کر لیا جاتا ہے کہ جس دن انہوں نے خطبہ شائع کیا ہے اس دن وہ بالکل نکھے اور فارغ رہے ہیں۔حالانکہ خطبے کا دن خطبہ لکھنے والے کارکن کا سب سے زیادہ محنت کا دن ہوتا ہے۔فن زود نویسی کے علاوہ حوالہ جات تلاش کرنے کا آپ کو زبر دست ملکہ حاصل تھا۔جس کا پہلی بارانکشاف اس وقت ہوا جب آپ حضرت مصلح موعود کے خطبات قلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اشاعت کے موقعہ پر اسی مضمون کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی اہم تحریر بھی خطبہ نمبر کے پہلے صفحے پر زیب قرطاس کر دیتے تھے۔جسے پڑھ کر قارئین عش عش کر اٹھتے تھے۔حضرت مصلح موعود نے آپ کی اس عظیم الشان خدمت پر درج ذیل الفاظ میں اظہارِ خوشنودی فرمایا:۔66 الفضل کے پہلے صفحہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات دیئے جاتے ہیں۔اب بادی النظر میں ایک ایسا شخص جس نے حوالجات نکالنے میں کبھی محنت سے کام نہیں لیا۔خیال کر لیتا ہے کہ یہ کونسی بڑی بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی کتاب یا الحکم یا بدر کا کوئی فائل اٹھایا اور اس میں سے ایک عبارت نقل کردی۔حالانکہ اس میں بہت بڑی محنت اور جد وجہد سے کام لیا جاتا ہے۔بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جس مضمون کا خطبہ ہوتا ہے عین وہی مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر سے نکال کر خطبہ نمبر کے پہلے صفحہ پر رکھ دیا جاتا ہے۔اور یہ اتنا قیمتی کام ہے کہ میں اسے خطبہ سے بھی زیادہ اہم سمجھا کرتا ہوں۔اور بعض دفعہ جب میں دیکھتا