تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 645
تاریخ احمدیت۔جلد 22 645 سال 1964ء بعد فوج میں ملازم ہو گئے۔آپ کو فوج میں ڈائر یکٹ وائسرائے کمیشن دے دیا گیا۔۱۹۲۸ء میں آپ نے یو کے سے کنگ کمیشن حاصل کیا۔دوسری جنگ عظیم میں آپ نے اٹلی کے محاذ پر خدمات سرانجام دیں۔جس کے صلہ میں آپ کو MED تمغہ ملا۔۱۹۴۷ء میں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو آپ اس وقت بریگیڈیئر کے عہدہ پر فائز تھے۔جنوری ۱۹۴۸ء میں آپ کو میجر جنرل بنادیا گیا۔پشاور کینٹ میں G۔O۔C رہے۔کچھ عرصہ کشمیر کے محاذ پر بھی رہے۔۱۹۵۳ء میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔۱۹۶۱ ء تا ۱۹۶۴ء لا ہور کا رپوریشن میں چیئر مین ( میئر ) کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور ۲۰ جنوری ۱۹۶۴ء کو دل کا دورہ پڑنے سے آپ انتقال کر گئے۔۲۱ جنوری ۱۹۶۴ء کو آپ کا جسد خاکی ربوہ لایا گیا۔جہاں حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور قبر تیار ہونے پر دعا کرائی۔دوران ملازمت آپ نے اہل لاہور کی فلاح و بہبود کا خوب کام کیا۔اچھے سلوک سے ماتحت ملازمین آپ کے گرویدہ ہو گئے۔آپ نے دو شادیاں کیں۔پہلی شادی دوالمیال میں اپنے خاندان میں محترمہ بی صاحبہ سے ہوئی۔دوسری شادی محترمه اقبال بیگم صاحبه دختر چوہدری شمشاد علی صاحب سے ہوئی جو کہ حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی نسبتی ہمشیرہ تھیں۔آپ کی وفات ۲۰ جنوری ۱۹۶۴ء کو ہوئی۔اولاد: دولڑ کے اور دولڑ کیاں۔ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب آف موگا وفات: ۲۸ جنوری ۱۹۶۴ء آپ جماعت احمدیہ کے مشہور آنریری مبلغ اور انتھک مجاہد تھے ابتدا آپ تحریک خلافت کے پُر زور پیچرار تھے۔جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کے بعد آریوں اور عیسائیوں کے ساتھ مناظرے میں خوب نام پیدا کیا۔فی البدیہ تقریر کرنے کا آپ کو خاص ملکہ تھا۔تقریر میں ایسی روانی ہوتی تھی کہ سامعین محو حیرت ہو جاتے اور اسے سن کر عش عش کر اٹھتے تھے۔آپ کے پاس ہر مذہب وملت خصوصاً عیسائیوں کے متعلق کتابوں کا نادر و نایاب ذخیرہ موجود تھا۔حتی کہ بعض پادری صاحبان انہیں دیکھ کر