تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 646 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 646

تاریخ احمدیت۔جلد 22 646 سال 1964ء بے اختیار کہ اٹھتے کہ آج ہم نے ڈاکٹر صاحب کے طفیل ان کتابوں کی زیارت کی ورنہ ہم تو ان سے بالکل بے خبر تھے۔مولوی ظل الرحمن صاحب بنگالی ولادت: ۱۸۹۵ء۔بیعت : ۱۹۱۷ء۔وفات : ۶ مارچ ۱۹۶۴ء مجاہد امریکہ صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی کے برادر اکبر تھے۔مسلسل ۳۵ سال تک تبلیغ کے میدان میں شاندار خدمات سرانجام دیں۔تحریک شدھی کے مقابلہ میں پیش ہوتے رہے۔صدہا کامیاب مناظرے کئے اور لیکچر دیئے۔کلکتہ میں ایک مذاہب عالم کا نفرنس میں شریک ہو کر یادگارلیکچر دیا اور اس موقع پر اہم غیر مسلم افراد تک جماعتی لٹریچر پہنچانے کی بھی توفیق ملی۔مثلاً ڈاکٹر رابندر ناتھ ٹیگور، مسز سروجنی نائیڈو، ڈاکٹر بھنڈارکر ، ڈاکٹر شاشتری، مہاراجہ پردوان وغیرہ۔آپ نے متعدد کتابیں بنگالی زبان میں تصنیف فرما ئیں۔جن میں حدیث المہدی، بہت مقبول ہوئی۔جناب مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی آپ ہی کے صاحبزادے ہیں۔ڈاکٹر لعل محمد صاحب لکھنوی (ڈھاکہ) ولادت :۱۸۸۱ء بیعت : ۱۹۱۳ء وفات: ۲ مئی ۱۹۶۴ء آپ کی صاحبزادی محترمہ شاکرہ بیگم صاحبہ کے قلم سے آپ کے تفصیلی سوانح ذیل میں سپرد قرطاس کئے جاتے ہیں:۔” میرے والد صو بیدار ڈاکٹر لعل محمد صاحب غالباً ۱۸۸۱ء میں لکھنو کے قریبی قصبہ سبیحہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا نام منصب علی تھا اور آپ کا اصلی نام ولایت علی تھا۔مگر چونکہ آپ کی پیدائش کے بعد آپ کی والدہ صاحبہ جلد وفات پا گئیں اس لئے بطور تفاؤل اس علاقہ کے کسی نیک اور معمر بزرگ کے نام پر آپ کا نام لعل محمد رکھ دیا گیا۔دوسری والدہ سے آپ کے ایک بھائی اور دو بہنیں تھیں۔۔۔۱۹۱۳ء میں جب آپ جھانسی چھاؤنی میں تھے۔آپ نے احمدیت قبول کی اور قادیان جا کر حضرت مولانا نورالدین صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر خدا تعالیٰ نے ایسی استقامت عطا کی کہ ابتلاؤں اور مصیبتوں میں ذرا نہ ڈگمگائے ، نہ کوئی کلمہ شکایت زبان پر لائے بلکہ قدم آگے ہی آگے بڑھاتے گئے۔