تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 644
تاریخ احمدیت۔جلد 22 644 ۱۹۶۴ء میں وفات پانے والے مخلصین جماعت سال 1964ء اب سلسلہ احمدیہ کے ان تمام خدام اور مخلصین جماعت کا اجمالی تذکرہ کیا جاتا ہے جو ۱۹۶۴ء میں داغ مفارقت دے گئے۔یہ وہ خوش نصیب تھے جنہیں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ اور خلفائے کرام سے براہ راست فیضیاب ہونے کی سعادت ملی اور خود ان کے وجود سے ایک عالم منور ہوا اور ہو رہا ہے۔چوہدری اللہ دین صاحب آف ادرحمہ ضلع سرگودھا وفات: ۳ جنوری ۱۹۶۴ء جناب ماسٹر ضیاء الدین صاحب ارشد صدرمحلہ دارالبرکات ربوہ تحریر فرماتے ہیں:۔مرحوم حضرت مولوی شیر علی صاحب جیسے فرشتہ سیرت انسان کے ذریعہ احمدیت کے نور سے منور ہوئے۔آپ اپنی مقامی جماعت کے ممتاز اور مخلص فرد تھے۔جماعتی امور اور احباب جماعت کی بہت سی خدمات محض اللہ سر انجام دیتے رہتے تھے۔آپ کو کاغذات محکمہ مال میں کافی عبور حاصل تھا۔احباب جماعت اور دیگر تمام لوگ آپ سے استفادہ کرتے۔لگان میں کسی قسم کی کوئی غلطی کا امکان ان کی موجودگی میں نہ ہوتا۔جہاں کہیں دو احمدی بھائیوں میں کوئی غلط نہی یا کشیدگی پاتے تو آپ کا وجود اس ناچاقی کو برداشت نہ کر سکتا اور فی الفور دو بھائیوں میں صلح کرانے میں کامیاب ہو جاتے۔اپنی بیماری میں اپنے اکلوتے بیٹے چوہدری اللہ بخش صادق صاحب ( سابق ناظم وقف جدید و صدر عمومی لوکل انجمن احمد یہ ربوہ) کو گاؤں میں بلایا۔ایام جلسہ سالانہ قریب تھے باوجودا اپنی تکلیف اور شدت مرض الموت کے اپنے لڑکے اور دیگر افراد خانہ کو شمولیت جلسہ سالانہ کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اصرار سے بھجوا کر سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ساتھ محبت و اخلاص کا آخری ثبوت دے دیا۔آپ کی وفات ۳ جنوری ۱۹۶۴ء کو ہوئی۔میجر جنرل نذیر احمد صاحب آف دوالمیال وفات: ۲۰ جنوری ۱۹۶۴ء آپ دوالمیال ضلع چکوال کے ایک احمدی گھرانے میں پیدا ہوئے۔تعلیم سے فارغ ہونے کے