تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 641 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 641

تاریخ احمدیت۔جلد 22 641 سال 1964ء میں اٹکا رہتا تھا۔مسجد کے باہر ماہی بے آب کی طرح تڑپتے رہتے تھے۔نمازوں میں باقاعدگی سے آتے۔آخری عمر میں بھی باوجود کمزوری اور خرابی صحت کے اور باوجود مسجد سے دور ہونے کے با قاعدگی سے مسجد آتے تھے۔توسیع مسجد کا مسئلہ در پیش تھا۔آپ نے اپنا ایک مکان بیچ ڈالا۔اس طرح آپ نے اپنے لئے تنگی پیدا کر کے مسجد کے لئے وسعت کا انتظام کیا۔ایک لائبریری، ایک مہمان خانہ اور تین دکانیں بنوائیں۔جس سے مسجد کی افادیت میں اضافہ ہوا اور اسے اپنی دکانوں سے۔۹۰ روپے ماہوار کی آمدنی ہونے لگی۔قومی کاموں سے دلچپسی ابھی دکانیں اور مہمان خانہ زیر تعمیر تھے کہ حضرت مولوی صاحب سخت بیمار ہو گئے۔آپ کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔اکثر بے ہوش رہتے تھے لیکن جب بھی کبھی ہوش میں آتے تو عیادت کے لئے آنے والوں سے جو سب سے پہلا سوال کرتے وہ یہ ہوتا کہ دکانوں اور مہمان خانے کا کیا حال ہے۔اللہ اللہ۔آپ چاہتے تھے کہ آپ کی زندگی ہی میں دکانیں، مہمان خانہ، لائبریری اور مربی کے لئے رہائش گاہ مکمل ہو جائے۔کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیفات سے از حد محبت تھی۔آپ کی جملہ کتب پر مکمل عبور حاصل تھا۔علاوہ ازیں کئی حوالے زبانی یاد تھے۔حضور کا منظوم کلام تو آپ کی روح کی غذا تھا۔رات کو بھی جب سوتے تو درنشین تکیہ کے نیچے رکھ کر سوتے تھے۔جس وقت بھی آنکھ کھلتی اسے پڑھتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔مرکز سلسلہ سے عشق قادیان کی محبت آپ کے جسم میں خون کی طرح دوڑتی رہتی تھی۔۱۹۴۴ء ( حضرت مولوی صاحب کے بیان کے مطابق آپ کی ہجرت ۱۹۴۱ء میں ہوئی) میں مستقل طور پر وطن چھوڑ کر دیا مسیح میں جا ڈیرہ ڈال مگر تقسیم کے بعد واپس آنا پڑا۔پھر ربوہ میں جب جلسہ سالانہ آتا تو دو ہفتہ پہلے تشریف لے جاتے اور ایک ہفتہ بعد تک ٹھہرے رہتے۔