تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 642
تاریخ احمدیت۔جلد 22 642 سال 1964ء اولاد: یہ فہرست حضرت مولوی صاحب کے داماد جناب قریشی عبدالغنی صاحب نے مرتب کی ہے آپ لکھتے ہیں: ”مولوی صاحب کے چار بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں جن میں سے دو بیٹے اور بیٹیاں وفات پاچکے ہیں۔پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کی کل تعداد ۵۵ ہے جن میں سے ۴۹ بفضل خدا حیات ہیں۔اسی طرح پڑ پوتوں، پڑپوتیوں، پڑنواسوں، پڑنواسیوں کی تعداد ماشاء اللہ ڈیڑھ صد سے زائد ہے۔آپ نے اپنے سب بچوں کی شادیاں اپنی زندگی میں ہی کر دی تھیں“۔ا۔امۃ الرحمن صاحبہ مرحومہ اہلیہ آغا محمد بخش مرحوم 79 محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ کی وفات کے بعد ان کی چھوٹی بہن محترمہ امتہ الحمید بیگم صاحبہ مکرم آغا محمد بخش صاحب کے عقد میں آئیں۔) ۲- محمد صدیق صاحب ۳۔حافظ محمد عمر صاحب -۴- امتہ الکریم صاحبہ (اہلیہ قریشی فضل حق صاحب مرحوم گولبازار ر بوه) ۵- امة الحفیظ صاحبہ (اہلیہ قریشی عبدالغنی صاحب گولبازار بوه) - امتہ الحمید بیگم صاحبہ (اہلیہ آغا محمد بخش صاحب مرحوم ) ۷۔سعیدہ بشری بیگم صاحبہ (اہلیہ مکرم بہار خان صاحب مرحوم) - محمد حسن مرحوم ( زمانہ شیر خوارگی میں وفات پائی ) - محمد زبیر مرحوم ( زمانہ شیر خوارگی میں وفات پائی ) ۱۰۔خیر النساء صاحبہ ( زمانہ شیر خوارگی میں وفات پائی) حضرت مولوی عمر دین صاحب شادی وال ضلع گجرات ولادت : ۱۸۷۹ء۔بیعت : ۱۹۰۳ء۔وفات : ۲۰ دسمبر ۱۹۶۴ء آپ اپنی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰۳ء میں کرم الدین کے مقدمہ میں جہلم تشریف لے گئے تو میں اپنے استاذی المکرم حضرت مولوی نجم الدین صاحب کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے گیا۔جب ہم اس جگہ پہنچے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٹھہرے ہوئے تھے تو مکان کے دروازے پر دربان کھڑا تھا اس