تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 640
تاریخ احمدیت۔جلد 22 640 سال 1964ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دل و جان سے فدا تھے اور حضور کی تعلیم کی عملی تصویر تھے۔لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ آیا۔غیر احمدیوں میں رشتہ دینے میں سہولت ہی سہولت تھی اور مقامی احمد یوں میں مناسب رشتہ موجود نہ تھا۔آپ نے اپنے علاقہ کی روایات کو قربان کرتے ہوئے اور اپنے جذبات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے رشتہ ڈیرہ غازی خان سے باہر قادیان میں دیدیا اور اس طرح مسیح موعود کی تعلیم کی پوری پوری پیروی کی۔اللہ تعالیٰ نے ان رشتوں میں فوق العادت طور پر برکت ڈالی۔اطاعت امام غالباً ۱۹۲۶ء میں رسوائے عالم کتاب ”رنگیلا رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شائع ہوئی۔ایک مسلمان نے اس کتاب کے ناشر کو قتل کر دیا۔قاتل کو پھانسی کی سزا ہوگئی۔اس کے بعد ایک اور کتاب آریوں کی طرف سے آنحضرت کے خلاف شائع ہوئی۔اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ملک بھر کی جماعتوں کو احتجاجی جلسے کرنے کی ہدایات صادر فرما ئیں۔مخالفت سخت تھی۔ملک کی سیاست پر ہندو اور عیسائی چھائے ہوئے تھے۔ملک کی اقتصادیات پر بھی ہندوؤں کا قبضہ تھا مگر حضرت مولوی صاحب نے ڈیڑھ ماہ کی دن رات کی انتقک کوششوں سے جلسہ کی اجازت حاصل کر لی۔اس جلسہ میں تمام اسلامی فرقوں نے شرکت کی۔حضرت خلیفتہ المسیح کی ہدایات مسلمان عوام کے سامنے رکھی گئیں اور انہیں کہا گیا کہ وہ معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی اپنی دکانیں کھولیں اور اقتصادی آزادی حاصل کرلیں۔مسلمانوں نے حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کے ان جذبات کی قدر کی۔انہوں نے قراردادیں پاس کر کے حکومت کو بھجوائیں نیز ہندوؤں سے اقتصادی آزادی حاصل کرنے کے لئے عام استعمال کی چیزوں کی اپنی دکانیں کھولنے لگے۔اس مشکل ترین تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے مولوی صاحب کو اپنی ملازمت بھی خطرہ میں ڈالنی پڑی لیکن آپ نے اطاعت امام کے لئے ہر چیز قربان کرنے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔اوصاف حمیده مولوی صاحب منکسر المزاج اور سادہ دل تھے۔زندگی بہت سادہ تھی۔آپ کا دل ہر وقت مسجد