تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 50
تاریخ احمدیت۔جلد 22 50 سال 1963ء حکومت مغربی پاکستان نے سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب“ نامی ایک کتاب کو منافرت پھیلانے کے الزام میں ضبط کر لیا ہے۔کہتے ہیں کہ یہ کتاب حامی دین مسیح سرکار برطانیہ کے دورِ حکومت میں پچھتر سال تک چھپتی اور بکتی رہی۔لیکن اس سے تعرض نہیں کیا گیا اور اب جبکہ پاکستان میں مسلمانوں کا اپنا راج پاٹ ہے تو اس کتاب کو عیسائی اثرات نے ضبط کرا دیا۔ہمیں تو اس کتاب کے مطالعہ کا شرف حاصل نہیں ہوا۔لیکن اخبارات میں جو مراسلے چھپ رہے ہیں۔ان میں تواتر کے ساتھ یہ بات کہی جارہی ہے کہ اس میں ایک لفظ بھی قانون کی زد میں نہیں آتا اور نہ اس میں کسی کی دل آزاری کی گئی ہے۔منافرت بھی ایک دلچسپ اصطلاح ہے۔قومی ، مذہبی اور ملکی بنیادوں کے خلاف ہر روز ہزارہا الفاظ بولے اور لکھے جاتے ہیں لیکن وہ آزادی تحریر و تقریر کے بنیادی حق کی بناء پر گرفت میں نہیں آتے۔لیکن اگر آپ کسی فرقہ کے عقائد باطلہ کا پوسٹ مارٹم کریں اور اس فرقے کی حکومت تک پہنچ ہو تو آپ کی تحریر ضبط۔96- ۶۔رسالہ ”المنبر (لائل پور ) جماعت کے اشد مخالف اس رسالہ نے ایک مقالہ افتتاحیہ ” قادیانی کتاب کی ضبطی اور واگزاری“ لکھا جس کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں: الف۔حکومت مغربی پاکستان کی بے تدبیری قابلِ ماتم ہے کہ اس نے ایک ایسے کتابچے کو ضبطی کے لئے منتخب کیا جو عیسائیوں کے خلاف ہے لیکن آج سے ستر انٹی سال قبل شائع ہوا۔عیسائی حکومت کے زمانے میں دو چار بار چھپا مگر اس نے اسے ضبط نہ کیا۔“ (ب ) " تعجب تو خیر نہیں کہ حکومت کے اور کونسے کام ایسے ہیں جو بے تدبیری کے داغ سے پاک ہیں لیکن اس امر کا افسوس ضرور ہے کہ حکومت نے بیٹھے بٹھائے ایک ایسا اقدام کیا جس سے اس کی ساکھ کو سخت نقصان پہنچا۔اس کی بہت سی کمزوریوں سے پردہ اٹھا اور اس کے سیکرٹریٹ کی نا اہلی پر ایک مضبوط مُہر لگ گئی۔۔۔( 3 ) '' حکومت کو اس حقیقت سے باخبر ہونا ضروری تھا کہ قادیانی جماعت۔۔۔دنیا کے بیشتر ممالک میں موجود ہے اور ہر ملک کے قادیانی تعداد میں دو چار ہوں یا دو چارسو۔لازماً اس حکم کے