تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 49
تاریخ احمدیت۔جلد 22 49 سال 1963ء ختم نبوت پر ہمارے خیالات کسی مسلمان سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول اکرم محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں لیکن احمدی حضرات کے اس موقف کو جسے اس موقعہ پر منظور شدہ متعدد قرار دادوں میں دہرایا گیا ہے چند الفاظ میں یہ ہے: (۱) اس کتاب میں کوئی ایسا مواد موجود نہیں جس سے کسی طبقہ میں منافرت پھیلنے کا احتمال ہو۔(۲) یہ کتاب عیسائی سراج الدین کے چار سوالوں کے جواب میں آج سے ۶۶ سال قبل رقم کی گئی تھی۔سراج الدین نے ان سوالوں میں حضور اکرم سرور کائنات کی شان میں (خاکم بدہن ) گستاخی کرنے کی جسارت کی تھی جس کا جواب مرزا صاحب نے دیا۔(۳) برطانوی عہد حکومت جب ہند میں برطانوی راج مسلط تھا کتاب کو ضبط کرنے کی کوشش نہیں کی گئی بلکہ ہر زمانہ میں عیسائی مناد، مناظرین اور علماء کے زیر مطالعہ رہی۔اسی طرح مختلف حکام کے سامنے بھی پیش ہوتی رہی لیکن کبھی بھی کسی موقع پر نہ عیسائی علماء کی طرف سے اور نہ عیسائی حکام کی طرف سے، پچاس سالہ دور حکومت میں اسے فرقہ وارانہ کشیدگی یا منافرت کا باعث قرار دیا گیا۔(۴) اس کتاب میں عیسائیت پر زور دار بھر پور حملے کئے گئے ہیں۔اس کتاب کو ضبط کرنا عیسائیت کے سیلاب کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دینے کے مترادف ہوگا۔انجمن احمدیہ کے ان اٹھائے ہوئے اعتراضات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ اُن میں کچھ نہ کچھ وزن ضرور ہے اگر ان اعتراضات میں ذرہ بھر بھی کوئی صداقت ہو تو ہم حکومت کے اس اقدام پر خراج تحسین پیش نہیں کر سکتے بلکہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس فرقے کے مذہبی احساسات اور خدمات کا احترام کرتے ہوئے ضبطی کا حکم واپس لے لے۔اگر یہ رسم چل نکلی تو پھر کسی بھی فرقہ کی مقدس کتب کو ذہبی منافرت کا رنگ دے کر ضبط کر لیا جائے گا۔اور یہ صورت حال پاکستان جیسی نظریاتی اور جمہوری مملکت کے شایان شان نہیں ہوگی۔ہمیں امید ہے کہ ہماری ان گزارشات کو اس سپرٹ میں قبول کیا جائے گا جس کے تحت یہ رقم کی گئی ہیں۔۵۔روزنامہ ” کوہستان (لاہور) روز نامہ کوہستان“ نے اپنی ۹ مئی ۱۹۶۳ء کی اشاعت میں درج ذیل نوٹ شائع کیا۔