تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 51
تاریخ احمدیت۔جلد 22 51 سال 1963ء خلاف احتجاج کریں گے۔وہ بحری تار بھجوائیں گے، اپنے اپنے ملک کے اخبارات ورسائل میں مضامین شائع کرائیں گے اور ہر جگہ سے قرار دادوں اور ریزولیوشنوں کا ایک طوفان امڈ آئے گا۔اگر اس سیلاب کے مقابلے کی ہمت حکومت میں نہیں تھی تو اسے کس پاگل نے کہا تھا کہ وہ رسوائی کو مول لئے۔ے۔پندرہ روزہ طوفان (ملتان) ملتان کے پندرہ روزہ طوفان نے حسب ذیل اداریہ شائع کیا:۔عیسائی مبلغین ایک عرصہ سے قرآن و پیغمبر اسلام علیہ السلام اور اسلام پر نا روا حملے کر رہے ہیں اور جب بھی اس کے خلاف کوئی آواز بلند کی گئی۔انہوں نے اپنے مؤقف کی تائید میں بیرونی عیسائی دنیا کے اثرات سے کام لیا اور ہمارے حکام کو اپنے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے باز رکھا۔گزشتہ دنوں مسلمانان پاکستان نے خطہ پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں ، خاموش تبلیغی کوششوں کے تحت تبدیلی مذہب کے ان گنت واقعات اور اس طرح حیرت انگیز طور پر ان کی روز افزوں تعداد پر کھل کر اظہار تشویش کیا اور حکومت کو اس تکلیف دہ صورتِ حال کی طرف توجہ دلائی تو ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔یورپ اور امریکہ میں اس کی صدائے بازگشت اس طرح سنی گئی کہ ان کے کثیر الاشاعت اخبارات نے کبھی پیغمبر اسلام کی فرضی تصویر میں شامل اشاعت کر کے مسلمانان عالم کے قلوب کو مجروح کیا کبھی اپنے کسی سفیر کے متعلق یہ خبر شائع کر کے چٹکیاں لیں کہ اس نے (نعوذ باللہ ) اپنی بلی کا نام احمد رکھ لیا ہے۔بہر حال جب مسلمانوں نے عیسائی دنیا کی ان چھچھوری حرکات پر صدائے احتجاج بلند کی اور اپنی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں ایسے گستاخ اور فتنہ انگیز رسائل کے داخلے پر پابندی عائد کر کے اپنی اور مسلمانان پاکستان کی طرف سے اظہار ناپسندیدگی کرے تو ہمارے ہاں کے عیسائی مبلغین نے بعض ان کتابوں پر پابندی لگائے جانے کی مہم شروع کی جو عیسائیت کے رد اور اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے سلسلے میں مختلف فرقوں کی طرف سے آج نہیں انگریزی حکومت کے دور میں لکھی اور شائع کی گئی تھیں۔اس سلسلے میں پہل ایک ایسی کتاب سے کی گئی جو ایک خاص طبقے کے رہنما نے تقریباً ۶۷ سال قبل ایک مرتد سراج الدین کے چارسوالوں کے جواب میں لکھی تھی۔اور جو اس وقت تک کئی بار شائع ہو چکی ہے۔نیز ۱۹۴۷ء کے دوران انگریزی میں ترجمہ