تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 48
تاریخ احمدیت۔جلد 22 48 سال 1963ء ضبطی پر شدید احتجاج اور انتہائی رنج والم کا اظہار کیا ہے۔اور احتجاجی مراسلات حکام بالا کی خدمت میں بھیجے ہیں۔ممبران جماعت احمد یہ مقامی ربوہ کی ایک احتجاجی قرار داد بھی موصول ہوئی ہے علاوہ ازیں وقف جدید انجمن احمد یہ پاکستان اور لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے احتجاجی تار صدر مملکت، گورنر مغربی پاکستان اور بعض دیگر حکام کے نام ارسال کئے گئے ہیں۔جماعت احمدیہ کے حلقوں کی طرف سے کتاب کی ضبطی کے حکم کو انتہائی غیر دانشمندانہ اور سراسرنا جائز قرار دیا جا رہا ہے اور حیرت اور اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔چونکہ مذکورہ کتاب شائع ہوئے ایک طویل عرصہ گذر چکا ہے اور اس لمبے عرصے میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔اگر اتنا طویل عرصہ اس کتاب کو برداشت کیا جاتا رہا ہے اور اس کتاب کی وجہ سے کسی فرقہ کی دلآزاری نہیں ہوئی تو آج کون سے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ اچانک اس کو ضبط کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ہمیں اپنے اعلیٰ حکام سے توقع ہے کہ وہ اس حکم پر نظر ثانی فرماتے ہوئے اس فیصلہ کو فورا منسوخ قرار دیں گئے۔94 ۴۔ہفت روزہ 'عقاب (سرگودھا) 66 اسی طرح ایک اور ہفت روزہ ” عقاب نے لکھا: ایک جائز مطالبہ : ایک سرکاری اعلان کے مطابق صوبائی حکومت نے تحریک احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کی تصنیف کردہ ایک کتاب عیسائی سراج دین کے چار سوالوں کا جواب“ کو حبق سرکا رضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ہم اس سرکاری اعلان کے حسن و قبح پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔کیونکہ سرکاری اعلان میں سوائے اس کے کہ اس کتاب میں مذہبی منافرت کا رجحان پایا جاتا ہے اور کوئی توضیح درج نہیں ہے۔صوبائی حکومت کے اس اعلان سے فرقہ احمد یہ اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں میں اضطراب اور احتجاج ایک فطری امر ہے کیوں کہ بقول ایک حالیہ قرار داد جور بوہ اور سرگودھا کی انجمن احمدیہ نے منظور کی ہے کہ قرآن اور حدیث رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد مرزا غلام احمد صاحب کی تمام تحریریں اُن کے لئے نہایت مقدس اور قابل احترام ہیں۔