تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 609 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 609

تاریخ احمدیت۔جلد 22 609 سال 1964ء ابتدائی تعلیم راہوں اور لدھیانہ میں حاصل کی۔۱۸۹۸ء میں مالیر کوٹلہ سے انگریزی مڈل پاس کیا۔اپنے ماموں زاد بھائی ڈاکٹر غلام دستگیر صاحب، برادر نسبتی قاضی شاہ دین صاحب اور حضرت حاجی رحمت اللہ صاحب کی تبلیغ و تحریک سے احمدیت قبول کی اور بیعت کا کارڈ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور لکھ دیا۔قادیان سے جواب آیا تمہاری بیعت منظور ہے نمازوں میں استقلال پیدا کرو، درود شریف اور استغفار میں لگے رہو اور تہجد پڑھنے کا بھی شغل رکھو۔تھوڑے عرصہ کے بعد آپ ملازمت کے سلسلہ میں لا ہورمتعین ہوئے اور حد یہ بلڈنکس کے پاس ایک مکان کرایہ پر لے کر دو سال تک وہاں مقیم رہے۔ان دنوں حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی احمد یہ بلڈنگس میں مغرب سے عشاء تک درس قرآن دیا کرتے تھے۔جس میں آپ با قاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔اسی طرح حضرت بابا ہدایت اللہ صاحب (احمدیت کے قدیم پنجابی شاعر ) سے بھی ملاقات ہوتی رہی۔ان کی سہ حرفی کے بہت سے شعر آپ کو زبانی یاد تھے۔آپ کی والہانہ تبلیغ سے نہ صرف آپ کے تینوں بھائی احمدی ہوئے بلکہ سارا خاندان احمدیت کے نور سے منور ہو گیا۔علاوہ ازیں ضلع لدھیانہ کے کم و بیش سات خاندانوں کو بھی احمدیت کی سعادت نصیب ہوئی۔حضرت شاہ صاحب ۱۹۳۸ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد ہجرت کر کے قادیان چلے گئے۔حضرت مصلح موعود نے آپ کو اپنا اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب کا مختار عام بنالیا۔بعد ازاں سیکرٹری امانت تحریک جدید کا فریضہ بھی آپ کے سپر د کر دیا گیا۔آپ ۱۹۴۸ء تک ان عہدوں پر فائز رہے۔آپ بڑے التزام سے نماز تہجد ادا کرنے کے عادی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ احمدیہ کا دیگر لٹریچر پڑھنا آپ کا دلپسند مشغلہ تھا۔اولاد۔رقیہ بیگم صاحبہ (اہلیہ سید محبوب احمد ہاشمی صاحب) ۲۔صفیہ بیگم صاحبہ (اہلیہ سید محمدمنیر ہاشمی صاحب) حنیفہ بیگم صاحبہ (اہلیہ سید منظور حسین شاہ صاحب) رابعہ بیگم صاحبہ (اہلیہ محد عبد اللہ صاحب) ۵ کیپٹن ڈاکٹرسید محمد جی احمدی (جناب سید یوسف سہیل شوق صاحب ان کے بیٹے تھے ) - سلیمہ بیگم صاحبہ (اہلیہ صوبیدار محمد حسین صاحب)