تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 610
تاریخ احمدیت۔جلد 22 610 سال 1964ء حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگر و آف گوجرانوالہ ولادت : ۱۸۷۹ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : یکم مئی ۱۹۶۴ء۔حضرت شیخ صاحب اپنی خود نوشت روایات میں تحریر فرماتے ہیں:۔’ایک بات مجھے یاد ہے اور وہ یہ کہ میں نے بہت سی خوا میں دیکھی تھیں۔بیعت کرنے سے پیشتر۔بیعت کرنے کے بعد میں نے تعبیر دریافت کرنے کے لئے حضور کی خدمت میں وہ خوا ہیں لکھیں۔حضور کی طرف سے یہ جواب آیا کہ ”ہمارے ماننے سے یہ تمام خوا ہیں پوری ہوگئی ہیں“ جس جگہ آجکل اخبار الوطن (لاہور) کی بلڈنگ ہے۔وہاں ایک احاطہ تھا جس میں احمدی اکٹھے ہو گئے۔وہاں حضرت اقدس نے ایک لیکچر دیا تھا۔وہاں احمدیوں نے حضور کی خدمت میں نذرانے پیش کئے۔حضرت اقدس نے ایک بند گلے والی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔جس کے جیب بڑے بڑے تھے۔مجھے یاد ہے کہ وہ جیب روپوں سے بھر گئے تھے۔ایک جیب کو خواجہ کمال الدین صاحب نے درست بھی کیا کہ روپے گر نہ جائیں۔وہاں حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں ایک دودھ کا گلاس بھی پیش کیا گیا تھا۔حضرت اقدس نے صرف ایک گھونٹ پیا تھا۔باقی ہم لوگ پی گئے۔۱۹۰۴ء میں حضرت اقدس ٹیچر کے لئے لاہور تشریف لائے تھے۔اس وقت میں لاہور میں ملازم تھا۔مجھے یاد ہے کہ لاہور کی جماعت نے ایک ہزار روپیہ خرچ کیلئے جمع کیا تھا اور یہ بھی پاس کیا تھا که لوکل آدمی جو خدمت کا کام کریں وہ کھانا گھر سے کھا کر آیا کریں تا کہ بوجھ نہ پڑے۔آپ بیعت کرنے کے بعد ملازمت یا کاروبار کے سلسلہ میں جہاں جہاں قیام فرما رہے احمدیت کی خوب تبلیغ کی۔گوجرانوالہ میں مرحوم کی برادری سخت مخالف تھی۔مگر آپ نہایت حکمت کے ساتھ انہیں پیغام حق پہنچاتے رہے۔آپ کلمہ حق کہنے میں بہت دلیر تھے۔۵۴-۱۹۵۳ء کی بات ہے کہ آپ گوجرانوالہ میں شیخ دین محمد صاحب سابق گورنر سندھ کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔آپ نے انہیں تحریک کی کہ وہ ایک بارر بوہ چلیں۔شیخ دین محمد صاحب نے جوابا کہا۔جب تک امام جماعت احمد یہ ربوہ مجھے ربوہ آنے کی دعوت نہ دیں میں کیسے جا سکتا ہوں۔آپ نے اسی دن حضرت مصلح موعود کے حضور لکھا کہ شیخ دین محمد صاحب یہ کہتے ہیں۔حضور نے تحریر فرمایا اگر شیخ دین محمد صاحب ربوہ آجا ئیں تو مجھے خوشی ہوگی۔اس پر آپ شیخ دین محمد صاحب کو ہمراہ لے کر بذریعہ موٹر بوہ پہنچے۔حضرت