تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 608 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 608

تاریخ احمدیت۔جلد 22 608 سال 1964ء حضرت عزیز و فاطمہ صاحبہ زوجہ حضرت منشی عبدالسمیع صاحب کپور تھلوی ولادت : ۱۸۸۴ء۔بیعت: ۱۹۰۵ ء۔وفات : ۲۳ مارچ ۱۹۶۴ء 2 مرحومہ کو اپنی زندگی میں اپنے دونو جوان بچوں اور دو بچیوں کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔مگر آپ نے کمال صبر کا نمونہ دکھایا۔پاکستان بننے کے بعد قادیان سے ہجرت کر کے پشاور تشریف لے آئیں۔اس وقت پشاور میں لجنہ اماءاللہ کی تنظیم نہ تھی۔آپ نے وہاں اس تنظیم کو قائم کیا۔لجنہ کی صدارت بھی آپ کے سپرد ہوئی جسے آپ نے احسن طور پر نبھایا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک احمدی دوست نے آپ کے داماد مولا بخش صاحب کا ز ریڈیو پشاور صدر سے ذکر کیا کہ آپ کی خوشدامن ہمارے گھر آکر لجنہ کا چندہ مانگتی ہیں۔مرحومہ سے اس واقعہ کا ذکر ہوا فرمانے لگیں۔میں تو سلسلہ کی خدمت کرتی ہوں اور احمدی بہنوں کے لئے ثواب کا موقعہ بہم پہنچاتی ہوں۔شہر سے ٹانگہ پر دوروپے اپنی جیب سے دے کر آتی ہوں۔اور ان سے ایک چونی چندہ رکنیت وصول کرتی ہوں۔صرف اس وجہ سے کہ ان کو ثواب ملے اور احمدی مستورات کی تنظیم قائم رہے۔اللہ تعالیٰ نے میرے جیسے بیمار وجود کو ہمت ہی اس وجہ سے دی ہے۔میں اس نیکی کے کام کو نہیں چھوڑ سکتی۔غرضیکہ دین کی خدمت کا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا جو آخر دم تک ان میں قائم رہا۔22 حضرت سکینہ بیگم صاحبہ زوجہ حضرت شیخ احمد علی صاحب ولادت: ۱۸۸۵ء بیعت : ۱۹۰۳ ء وفات : ۲۱ را پریل ۱۹۶۴ء سکینہ بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت شیخ احمد علی صاحب دھرم کوٹ بگہ کی اہلیہ تھیں اور خود بھی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ دھرم کوٹ بگہ تشریف لے گئے۔اس موقع پر مرحومہ نے اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کر کے حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا تھا۔آپ پابند صوم وصلوۃ اور صاحب رؤیا و کشوف تھیں اور اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازتا تھا۔حضرت سید محمدحسین شاہ صاحب آف راہوں ضلع جالندھر ولادت : ۷/اگست ۱۸۸۳ء۔بیعت : ستمبر ۱۹۰۵ء۔وفات:۲۴ را پریل ۱۹۶۴ء۔