تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 607 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 607

تاریخ احمدیت۔جلد 22 607 سال 1964ء آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت اور حضور کے عمل کے خلاف نہ ہو۔اللھم صل علی محمد و آل محمد سید نا حضرت مصلح موعود نے مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے موقعہ پر فرمایا:۔پرانے مبلغ مثلاً مولوی غلام رسول صاحب وزیر آبادی، مولوی غلام رسول صاحب را جیکی، مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری انہوں نے ایسے وقتوں میں کام کیا ہے جبکہ ان کی کوئی مدد نہ کی جاتی تھی اور اس کام کی وجہ سے ان کی کوئی آمد نہ تھی۔اس طرح انہوں نے قربانی کا عملی ثبوت پیش کر کے بتادیا کہ وہ دین کی خدمت بغیر کسی معاوضہ کے کر سکتے ہیں ایسے لوگوں کو اگر ان کی آخری عمر میں گزارے دیئے جائیں تو اس سے اُن کی خدمات حقیر نہیں ہو جاتیں بلکہ گزارے کو ان کے مقابلے میں حقیر سمجھا جاتا ہے کیونکہ جس قدر ان کی امداد کرنی چاہیئے اتنی ہم نہیں کر رہے۔حضرت مولانا صاحب کی زندگی کا آخری علمی کارنامہ ”حیات بقاپوری‘ کی تالیف ہے جو پانچ جلدوں میں چھپی اور جماعت میں بہت مقبول ہوئی۔علاوہ ازیں اس کتاب میں مندرج آپ کے بعض رؤیا و کشوف انگریزی زبان میں بھی شائع کئے گئے۔19 حضرت مصلح موعود نے ۲۷ دسمبر ۱۹۵۴ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر دورانِ سال شائع ہونے والے نئے لٹریچر کی اشاعت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حیات بقا پوری کا بھی ذکر کیا اور فرمایا:۔دوسری کتاب حیات بقا پوری ہے اس میں انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض فتاویٰ بھی جمع کئے ہیں نہ معلوم وہ ہیں جن میں وہ بھی اس وقت بیٹھے ہوئے تھے یا اُن کو پسند تھے کہ انہوں نے لکھ لئے لیکن اُس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض خیالات اور آپ کے افکار بعض مسائل کے متعلق نہایت اعلیٰ درجہ کے لکھے گئے ہیں بلکہ ایک حوالہ تو ایسا ہے جس کی ہم کو تلاش رہی اور پہلے ہم کو نہیں ملا۔اس میں ہمیں مل گیا۔یہ بھی اچھی دلچسپ کتاب ہے۔20 اولاد مبارکہ صاحبہ۔امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ زوجہ سید عباس علی شاہ صاحب عمر کوٹ ضلع ڈیرہ غازی خاں۔محمد اسماعیل صاحب بقا پوری۔ڈاکٹر میجر محمد الحق صاحب بقا پوری۔مبارکہ ثانیہ صاحبہ زوجہ محمد اشرف خاں سوری صاحب آف لاہور۔مبارک احمد صاحب بقا پوری۔