تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 606
تاریخ احمدیت۔جلد 22 606 سال 1964ء غرضیکہ جس قدر عرصہ بھی مکرم مولوی صاحب کے ہمراہ خاکسار کو ملا وہ نہایت ہی مفید ثابت ہوا۔اور آئندہ تبلیغ میں ان کا طریق کار اور نصائح مشعل راہ ہیں۔چوہدری ظہور احمد صاحب آڈیٹر صدرانجمن احمدیہ پاکستان کا چشم دید واقعہ ہے کہ:۔د میں نظارت تعلیم و تربیت میں کام کیا کرتا تھا۔حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری واعظ مقامی تھے اور بڑی محنت ، اخلاص اور اپنے اعلیٰ نمونہ سے اس خدمت کو سرانجام دیتے تھے۔انسپکٹر تعلیم کا یہ کام تھا کہ وہ تربیت سے متعلق خط و کتابت کا جواب دیا کرے۔ایک دفعہ وہ باہر چلے گئے تو یہ خدمت بھی حضرت مولانا بقا پوری کے سپرد ہوئی۔انہوں نے دفتر میں آتے ہی قابل جواب خط و کتابت دیکھی۔اس میں سے ایک خط مبلغ مغربی افریقہ حکیم فضل الرحمن صاحب کا نکالا۔اور مجھے بتایا کہ یہ خط اڑھائی ماہ سے آیا ہوا ہے۔ایک استفتاء ہے جس کا اثر ساری جماعت پر پڑتا ہے۔عید کی تقریب پر اس کی ضرورت پیش آئے گی کیونکہ اس موقعہ پر وہاں ایک ایسی رسم عمل میں آتی ہے جسے محترم حکیم صاحب خلاف شریعت خیال کرتے ہیں اور مرکز سے رہنمائی چاہتے ہیں۔عید میں صرف چند دن باقی تھے۔میں نے حساب کر کے مولانا صاحب کو بتایا کہ اگر جواب اس ڈاک میں چلا جائے تو بر وقت مل سکتا ہے ورنہ نہیں۔ڈاک جانے میں صرف دو گھنٹے باقی تھے اور ابھی مفتی سلسلہ سے مشورہ لینا تھا۔حضرت مولانا صاحب نے فرمایا کہ اگر ان کو بروقت جواب نہ دیا گیا اور کوئی کام اب خلاف شریعت ہوا تو اس کی ذمہ داری ہم پر ہوگی اور ہم اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔مولا نا فوراً چھی لے کر اٹھے اور آدھ پون گھنٹہ کے بعد خوشی خوشی واپس آگئے اور فرمایا میں مفتی صاحب سے فتویٰ لے آیا ہوں۔مفتی صاحب (حضرت مولانا محمد سرور شاہ صاحب) کو میں نے ڈھونڈ نکالا۔جس جگہ ملے اسی جگہ بیٹھ کر ہم نے یہ کام مکمل کر لیا۔چنانچہ وہ فتویٰ افریقہ کے لئے بر وقت پوسٹ کر دیا گیا اور وہاں بھی بروقت پہنچ گیا اور اسی کے مطابق عمل ہوا۔جس کے نتیجہ میں ایک ایسا کام جو خلاف شریعت تھا اسے سالہا سال سے کہلانے والے مسلمان کر رہے تھے اس کا خاتمہ ہوا۔اگر مولا نا بقا پوری صاحب اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کرتے تو یقینا یہ وقت گزر جاتا۔گو بظاہر یہ واقعہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہولیکن ان لوگوں کی دیانت اور ذمہ داری کے احساس کے علاوہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کا کس قدر درد ہے۔اور وہ کس طرح اپنے دلوں میں یہ تڑپ بھی رکھتے ہیں کہ کوئی کام ان کے