تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 570 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 570

تاریخ احمدیت۔جلد 22 570 سال 1964ء عہدہ سنبھالتے ہوئے بھی اس کی زبان سے قرآن کی آیات سنی گئیں۔سبحان اللہ۔اسلام سے عشق ہو تو ایسا۔کیا یہ منصور سے کہیں پیچھے ہے؟ مذہب کی پابندی نے اسے اتنا دلیر بنا دیا ہے کہ وہ کبھی نہیں ڈرا۔اُسے عہدے اور شہرت کا کبھی لالچ نہیں ہوا۔وہ بڑے بڑے عہدوں کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ اسلام کی تبلیغ بھی کرتا رہا۔یورپین ممالک میں زندگی کا بیشتر حصہ گزارنے پر بھی وہ وہاں کے ماحول سے کبھی متاثر نہیں ہوا۔وہ وہاں بھی با قاعدگی سے اسلامی ارکان کا پابند رہا اور انشاء اللہ تعالیٰ رہے گا۔عیسائی دنیا میں وہ اسلام کا ایک جیتا جاگتا اور سچا نمونہ ہے۔اس شخص نے دین اور دنیا دونوں میں بڑھ چڑھ کر ترقی کی ہے۔جہاں دین اور دنیا کا مسئلہ آیا وہاں اس نے دین کو دنیا پر مقدم کر دکھایا۔پچھلے دنوں لاہور میں اس کی تقریروں کے دوران بڑے بڑے قابل لوگوں نے اپنے آپ کو اس کے سامنے بے بس اور بچہ دیکھا۔آخر میں میں یہ کہوں گا کہ مذہبی تعصب ہمیں ایسی ہستیوں کو فراموش نہیں کرا سکتا۔خدا سے دعا ہے کہ وہ مخالفوں کو جماعت احمدیہ کی روح کو سمجھنے کی توفیق دے۔آمین ثم آمین میں جماعت احمدیہ کے بزرگوں سے درخواست دعا کرتا ہوں کہ وہ میرے لئے دعا کریں کہ میں جلد از جلد جماعت احمدیہ سے وابستہ ہو جاؤں۔میرے اس راہ میں ابھی چند رکاوٹیں ہیں جو میرے بس کا روگ نہیں۔صرف خدا تعالیٰ ہی ان رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے۔خاکسار زیڈ کے لطیف۔ایم۔اے۔ایل۔ایل۔بی۔لاہور دوم۔جناب نبی بخش ناصر صاحب بھابڑہ ضلع سرگودہا نے ایک مراسلے میں اپنے دلی اور قلبی جذبات کا درج ذیل الفاظ میں اظہار فرمایا:۔احمدیوں کا جلسہ سالانہ دیکھنے کی آرزو کئی سال سے تھی۔مگر اس خیال کو عملی جامہ پہنانے میں چند بے معنی اور بے بنیاد وساوس مانع رہے۔امسال اپنے احمدی دوستوں کی محبت اور پُر خلوص دعوت نے اس روحانی اجتماع میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا۔میں ۲۶/۱۲/۶۴ کو رات کے نو بجے اپنے دوست مکرم احمد علی صاحب جو آجکل تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں مدرس ہیں کے ہاں پہنچا۔دوسرے دن صبح کا کھانا کھا کر اپنے ایک اور دوست کی رفاقت میں جلسہ گاہ روانہ ہوا۔جلسہ گاہ ایک کھلے میدان میں تھا۔جس کے چاروں طرف خوبصورت شامیانے نصب تھے۔حاضرین جلسہ پر جو