تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 569 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 569

تاریخ احمدیت۔جلد 22 569 سال 1964ء کہ جماعت احمد یہ ایک خدائی اور الہی جماعت ہے۔اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب ایک سچے اور برگزیدہ بزرگ تھے اور ان کے ماننے والے فرشتے معلوم ہوتے ہیں۔جلسہ کے دوران مجھے یہ تسلیم کرنا پڑا کہ جماعت احمدیہ کے افراد میں اتنا با ہمی انس اور اتحاد ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے تمام افراد جماعت احمدیہ نے ایک ہی ماں کے بطن سے جنم لیا ہے۔وہاں ایک دوسرے کے ساتھ حقیقی بھائی سے بڑھ کر محبت دیکھی گئی۔زمین نعروں سے تھراتی اور آسمان گونج اٹھتا تھا۔خدا کے یہ نیک بندے فرشتوں کا ایک گروہ دکھائی دیتے تھے۔اور یہی وجہ تھی کہ خدا خود وہاں اترا ہوا معلوم ہوتا تھا۔سادگی اور علم ان کی گھٹی میں ایسا ہی ہے جیسا کہ اسلام سے قبل عربوں کی گھٹی میں شراب ہوتا تھا۔جلسہ کے دوران نماز اور اوقات کی پابندی کا خاص خیال رکھا گیا۔مقررین جادو بیان اور شمع نور تھے۔وہ شیروں کی طرح گر جتے اور بادلوں کی طرح چھائے جاتے تھے۔جماعت احمدیہ کے افراد میں اسلام اور عشق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ولولہ دیکھا جو شاید ہی مسلمانوں کے کسی اور فرقہ میں پایا جاتا ہو۔جو سعادت، بزرگی علم اور عشق جماعت احمد یہ میں پایا جاتا ہے وہ شاید ہی کسی دوسرے اسلامی گروہ کو میسر ہو۔ربوہ جماعت احمدیہ کے لئے دل اور محور کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ ان کا ایک مقدس مقام ہے جو مدینہ منورہ سے حدود اربعہ میں کئی طرح ملتا جلتا ہے۔وہاں سینما اور دیگر تفریحی چیزیں ہرگز نہیں۔مساجد میں مسجد مبارک اور بازاروں میں گول بازار قابل ذکر ہیں۔ربوہ کوئی صنعتی ، تجارتی یا کاروباری شہر نہیں۔یہ جماعت احمدیہ کا مرکز اور ایک دینی شہر ہے۔سر کو ڈھانپ کر چلنا ان کا شیوہ ہے۔جلسہ سالانہ میں نہ صرف پاکستان سے ہی بلکہ تمام کرہ ارض سے احمدیوں نے شرکت کی۔غانا کے ایک بلال بھی تشریف لائے تھے جنہوں نے انگلش میں تقریر کی۔انہوں نے غانا میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی پر اعداد و شمار کے ذریعہ مختصری تقریر کی تھی۔اب میں پاکستان اور جماعت احمدیہ کی ایک قابل ترین شخصیت کے بارہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔وہ ہیں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب جو آجکل عالمی عدالت انصاف کے حج ہیں۔یہ صاحب مذہب کے اتنے پکے ہیں کہ شاید ہی دنیا کے ایسے بڑے عہدے پر فائز کوئی اور شخص ہو۔دنیا کے چپہ چپہ پراڑ نے والا یہ پرندہ اسلام کا پر چار کرنے سے کبھی نہیں رکا۔یہاں تک کہ جنرل اسمبلی کے صدر کا