تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 568
تاریخ احمدیت۔جلد 22 568 سال 1964ء میں نہیں جانتا کہ عبارت کیسے لکھی جاتی ہے۔یہ صرف میرے جذبات ہیں جو ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں آپ پڑھ رہے ہیں۔گوئیں جماعت احمدیہ سے منسلک نہیں ہوں لیکن میرے دل میں جماعت احمدیہ کی بے حد تعظیم اور قدر ہے۔میرا یہاں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ جماعت احمد یہ ایک خدائی جماعت ہے۔اس چیز کا مشاہدہ مجھے حال ہی میں جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ پر ہوا۔جو کہ ہر سال ماہ دسمبر کی ۲۶، ۲۷ اور ۲۸ تاریخ کور بوہ میں منعقد ہوتا ہے۔شروع شروع میں مجھے جماعت احمدیہ کے عقائد سے شدید اختلاف تھا اور یہ اس وجہ سے تھا کہ میں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا تھا بلکہ احمد یہ جماعت کے مخالف علماء کی باتیں سن رکھی تھیں۔تقریباً چھ ماہ کا واقعہ ہے کہ لاہور کے ایک احمدی طالب علم سے میری ملاقات ہوئی۔موصوف آج کل لاء کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔انہوں نے مجھے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی چند کتب اور کلام محمود جوان کے بڑے صاحبزادے اور خلیفہ وقت کی منظوم تصنیف ہے پڑھنے کے لئے عنایت فرمائیں۔میں نے سرسری طور پر ان کتب کا مطالعہ کیا۔جب میں نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی کتاب کشتی نوح پڑھنی شروع کی تو ایک ایک لفظ نے مجھے چوکنا کر دیا۔عبارت میں ایسا تسلسل اور ربط پایا جاتا ہے کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھتا ہے۔مفہوم دماغ پر نقش اور لفظ تیر کی طرح جسم میں گڑتے جاتے ہیں۔آنکھیں خیرہ اور دل پسیج جاتا ہے۔اس کتاب کو پڑھ کر مخالف علماء کی بتائی ہوئی تمام باتیں میرے ذہن سے نکل گئیں۔جب کلام محمود پڑھا تو اور میری آنکھیں کھلیں۔ان دو کتب کے مطالعہ سے جماعت احمدیہ کے عقائد کا ایک جامع خاکہ میرے ذہن میں بیٹھ گیا۔پھر میرا مشغلہ یہ رہا کہ فرصت کے اوقات میں مختلف احمدی دوستوں سے استفادہ کرتا رہا۔اور مزید کتب پڑھنے کا موقع ملا۔اب کی بار جب میں خود جماعت احمدیہ کا سالانہ جلسہ دیکھنے کی غرض سے ربوہ گیا تو وہاں کے ماحول اور لوگوں کے اخلاق نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ربوہ میں ایسا انتظام دیکھا جو کہ شاید دنیا کی کسی حکومت کے بس کا روگ نہیں ہے۔ہزاروں انسانوں کے کھانے کا بندوبست، بچوں کی گمشدگی اور ملنے کے اعلانات ، سامعین جلسہ کی مکمل خاموشی ، نو جوانوں کی تربیت اور دیگر تمام انتظامات۔یہ چند ایسی چیزیں ہیں جو کہ مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہیں کہ ہر خاص و عام کو مطلع کروں کہ مجھے اُس خدائے رحیم و کریم کی قسم ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور جس کے ہاتھ میں میری جان ہے