تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 548 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 548

تاریخ احمدیت۔جلد 22 548 سال 1964ء کارکنان کے دوصد کے قریب نو عمر بچوں نے شرکت کی۔یہ باغیچہ جس کا رقبہ قریباً بائیس ہزار مربع فٹ ہے تحریک جدید نے اس غرض سے بنایا ہے کہ اس میں شام کے وقت کارکنان کے نو عمر بچے سر پرستوں کی نگرانی میں سیر و تفریح کر سکیں اور اپنی عمر کے لحاظ سے مختلف قسم کے پر مسرت کھیلوں میں حصہ لے کر اس وقت کو ہنسی خوشی گزار سکیں۔اسے گھاس اور پھولوں کی خوشنما کیاریوں کے علاوہ پینگیں بڑھانے والے جھولوں ، اوپر نیچے ہونیوالے چوبی تختوں اور بلندی سے نیچے کی طرف تیزی کے ساتھ پھسلنے کے لئے لکڑی کے بنے ہوئے چکنے راستوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔پھر اس امر کا بھی اہتمام کیا گیا ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں علیحدہ علیحدہ ان سب کھیلوں میں حصہ لے سکیں۔یہ باغیچہ ان جملہ انتظامات کے ساتھ چھ سات ہزار روپے کے مصرف سے بن کر تیار ہوا ہے جس میں زمین کی قیمت شامل نہیں ہے۔چار بجے شام جب محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب باغیچہ کے افتتاح کے لئے تشریف لائے تو خوش پوش نو عمر بچوں اور بچیوں نے جو باغیچہ کے وسط میں دو علیحدہ علیحدہ قطاروں میں کھڑے ہوئے تھے بلند آواز سے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ اور اھلا و سهلا و مرحبا کہہ کر آپ کا استقبال کیا۔آپ نے ہر بچہ کے پاس جا کر اس سے مصافحہ کیا اور سر پر ہاتھ پھیر کر پیار کیا۔مکرم حسن محمد خاں صاحب عارف نائب وکیل التبشیر اور مکرم چوہدری عبدالعزیز صاحب مہتمم مقامی ساتھ کے ساتھ ہر بچہ کا تعارف کراتے جاتے تھے۔اس موقع پر بعض بچیوں نے چھوٹے چھوٹے خوشنما گلدستے آپ کی خدمت میں پیش کئے جنہیں آپ نے بڑی مسرت کے ساتھ قبول فرمایا۔ازاں بعد جملہ بچوں اور بچیوں نے علیحدہ علیحدہ قرینے سے آراستہ کی ہوئی میزوں کے گرد کھڑے ہو کر دودھ پینے کے علاوہ لڈوؤں سے منہ میٹھا کیا۔بعدہ افتتاحی تقریب تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی جو عزیز محمد ادریس ابن مکرم مولوی محمد اسحاق صاحب صوفی مبلغ مشرقی افریقہ نے کی۔درشین میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک نظم عزیز محمد داؤد ابن مکرم مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر سابق مبلغ ماریشس نے خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔تلاوت اور نظم کے بعد محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ کھیل کا میدان جہاں بچوں کیلئے تفریح اور ورزش کا سامان مہیا کرتا ہے وہاں بہت سے اخلاقی سبق بھی دیتا ہے۔مثال کے طور پر ایک ضروری اور اہم سبق یہ ہے کہ بچے باہم