تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 549
تاریخ احمدیت۔جلد 22 549 سال 1964ء مل جل کر محبت، ہمدردی، تعاون اور مساوات کے جذبہ کے ماتحت اپنا وقت گزاریں۔آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ وہ کھیل کود کے ان سامانوں سے اس طرح مل جل کر فائدہ اٹھائیں کہ باری باری سب بچے ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ان نصائح کے بعد آپ نے پینگ بڑھانیوالے جھولوں کا تالا کھول کر باغیچہ کا افتتاح فرمایا۔اس کے ساتھ ہی بچوں اور بچیوں نے اپنے علیحدہ علیحدہ جھولوں پر باری باری جھولنا اور اُچھلنا کودنا شروع کر دیا۔انتہائی ذوق و شوق اور خوشی ومسرت کے عالم میں بچوں کی یہ اچھل کود مغرب کی اذان تک جاری رہی۔بچوں کی ان کھیلوں اور اچھل کود سے کچھ دیر تک لطف اندوز ہونے کے بعد محترم صاحبزادہ صاحب موصوف کارکنان تحریک جدید کے رہائشی کوارٹروں کے معائنہ کیلئے تشریف لے گئے۔آپ نے عمومی جائزہ کے علاوہ بعض کوارٹروں کے اندر جاکر ان کی حالت کا تفصیلی طور پر معائنہ فرمایا۔اور کوارٹروں کی مرمت وغیرہ کے سلسلہ میں مکرم چوہدری غلام بین صاحب نائب وکیل الدیوان کو ضروری ہدایات دیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا جامعہ احمدیہ سے خطاب ۱ دسمبر ۱۹۶۴ء کو حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے جامعہ احمدیہ کی الجمعیۃ العلمیۃ کے زیرا انتظام ” مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کی راہ میں ہماری مشکلات“ کے عنوان کے تحت ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔صدارت کے فرائض الجمعیۃ العلمیۃ کے نائب رئیس لئیق احمد صاحب طاہر نے ادا کئے۔جمعیت کے خصوصی اجلاس میں جامعہ احمدیہ کے اساتذہ کرام اور طلباء کے علاوہ ربوہ کے دیگر احباب بھی کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔حضرت چوہدری صاحب نے جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اپنے انتہائی محدود وسائل کے پیش نظر ہم نے اب تک جو کوششیں کی ہیں ان پر لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کی مثل صادق آتی ہے۔بہر حال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کا احسان ہے کہ اس نے ہماری حقیر کوششوں میں برکت ڈال کر ان کے خوش کن نتائج ظاہر فرمائے ہیں۔تاہم ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم مغربی ممالک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے کر پہلے اصل مرض کی تشخیص کریں اور پھر علاج کی مقدور بھر کوشش عمل میں لائیں۔