تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 475 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 475

تاریخ احمدیت۔جلد 22 475 سال 1964ء (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کا خطاب ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر خوشی کا اظہار فرمایا کہ قادیان کی طرح ربوہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے تعلیم القرآن کلاس جاری کرنے کی توفیق بخشی اور پہلی کلاس بفضل اللہ تعالیٰ کامیابی اور خیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ آئندہ یہ کلاس وسیع پیمانے پر منعقد ہونی چاہیئے۔اس میں پورے اہتمام سے علاقہ وار نمائندگی ہونی چاہئے پھر ہر پیشہ اور ہر حرفت کے لوگ اس میں شامل ہونے چاہئیں۔اسے اس طور پر منظم کیا جائے کہ یہ صحیح معنوں میں جماعت احمدیہ کی ایک نمائندہ کلاس ہوتا اس سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچے اور پھر وہ قرآنی علوم کو اپنی اپنی جماعتوں میں پھیلانے اور دوسرے احباب کو ان سے فیضیاب کرنے کا ذریعہ نہیں۔بعدہ آپ نے کلاس میں شامل ہو کر قرآنی علوم سے بہرہ ور ہونے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اس طرف توجہ دلائی کہ انہوں نے جو کچھ سیکھا ہے اس سے اپنی عملی زندگی میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔آپ نے فرمایا قرآن کریم کو دو طریق پر سیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے ایک طریق تو یہ ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ کے معانی سیکھ کر پھر قرآن کریم کو پڑھا جائے اور اس کے ظاہری معانی سے آگاہی حاصل کی جائے۔اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید کو اس طرح سمجھ کر پڑھنا بھی ضروری ہے لیکن قرآنی علوم کو سمجھنے اور ان پر عبور حاصل کر کے ان سے صحیح رنگ میں استفادہ کرنے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں ہے۔کیونکہ اس طرح سے تو غیر مسلم بھی قرآن کو پڑھ سکتے ہیں اور بعض نے پڑھا بھی ہے۔اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔بلکہ بعض تو قرآن پڑھنے کے باوجود زندگی بھر اسلام کی مخالفت ہی کرتے رہے اور بغض وعناد میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔اگر قرآن کو صرف اس طرح ہی پڑھنا کافی ہو تو پھر ایک مومن اور غیر مسلم کے مطالعہ قرآن میں فرق ہی کیا رہا۔در اصل قرآن کو پڑھنے اور اس سے استفادہ کرنے کا ایک دوسرا طریق یہ بھی ہے۔خود اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے اور وہ ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ٨٠) یعنی قرآن کریم کی حقیقت کو وہی لوگ پاتے ہیں جو مطہر ہوتے ہیں۔پس اصل چیز تقویٰ اور قرب الہی کے حصول کی تڑپ ہے جب دل کی اس کیفیت کے ساتھ قرآن کو پڑھا اور اس سے استفادہ کیا جائے