تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 476 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 476

تاریخ احمدیت۔جلد 22 476 سال 1964ء تو علوم و معارف اور وہ اسرار جو روحانی ترقی کے ضامن ہیں انسان پر کھلنے لگتے ہیں۔یہی وہ اصل ہے جو قرآن مجید سے استفادہ کرتے وقت مومن اور معاند میں امتیاز کرنے والی ہے اگر یہ بات نہ ہو تو پھر دونوں کے طریق استفادہ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔یہ امر یا درکھنا چاہیئے اور اس کو ہمیشہ مد نظر رکھنا ضروری اور بہت ضروری ہے کہ دل کی اس کیفیت کے ساتھ قرآن مجید سے استفادہ کیا جائے کہ اس میں تقویٰ اللہ اور قرب الہی کے حصول کی تڑپ ہو۔اگر ہم دل کی اس کیفیت کے ساتھ قرآنی علوم کے طالب ہوتے ہیں اور اس سے استفادہ کو اپنا شعار بناتے ہیں تو یقیناً ہم بابرکت ہیں اس لئے کہ اس کے نتیجے میں ہم اپنے آپ کو اس قابل بناتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں روحانی ترقیات سے نواز کر اپنے قرب کی راہیں ہم پر کھول دے، یقیناً اس کے نتیجے میں ہم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر کے روحانی ترقیات حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ قرآن مجید وہ کامل ہدایت ہے جو ان علوم سے ہمیں بہرہ ور کرتی ہے جنہیں عقل اور فہم و فراست کے بل پر انسان حاصل نہیں کر سکتا اور وہ ہیں روحانی علوم یعنی وہ علوم جن کا۔روح کے ساتھ تعلق ہے۔آپ نے فرمایا دنیا میں ایک تو وہ علوم ہیں جنہیں ہم اپنی محدود عقل کی مدد سے ایک حد تک حاصل کر سکتے ہیں اور یہ وہ علوم ہیں جن کا تعلق قوانین قدرت سے ہے۔ان میں دنیا کے تمام مادی علوم شامل ہیں۔لیکن روح کا علم ایک ایسا علم ہے جسے ہم عقل کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے۔اس کا حصول وحی الہی پر موقوف ہے۔اس مرحلہ پر حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف نے وَ يَسْلُوْنَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلًا بنی اسرائیل: ۸۶) کی تفسیر کرتے ہوئے واضح فرمایا کہ روح کا علم اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہیں دیا۔انسان اپنی عقل کے ذریعہ سے اس علم کو حاصل نہیں کر سکتا۔یہ علم قرآن مجید کا لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعۃ :۸۰) کی اصل کے ماتحت مطالعہ کرنے اور روحانی ترقیات حاصل کرنے کے بعد وحی الہی کے ذریعہ ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔انسانی جسم کی زندگی بہر حال محدود ہے لیکن روح کی زندگی غیر محدود ہے۔وہ انسان کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گی۔اور ابد الآباد تک جاری رہے گی۔قرآن مجید وہ کامل ہدایت ہے جو ہمیں اُس روح کا جس نے ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہنا ہے علم حاصل کرنے کی راہ بتاتی ہے لیکن شرط یہی ہے کہ ہم لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : ۸۰) کی اصل کے ماتحت اس کامل ہدایت سے فائدہ اٹھا ئیں اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ خدا ہمیں خود اپنی