تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 474
تاریخ احمدیت۔جلد 22 474 سال 1964ء اسی روز شام کو چھ بجے دفتر صدرانجمن احمد یہ میں نظارت اصلاح وارشاد نے ایک الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا۔جس میں کلاس کے اساتذہ کرام اور جملہ طلباء کے علاوہ بعض ناظر و وکلاء صاحبان اور ( حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بھی شرکت فرمائی۔پارٹی کے بعد اختتامی تقریب کا آغاز حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف کی صدارت میں تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو کلاس کے ایک طالب علم عنایت اللہ صاحب منگلا (ایم۔اے سٹوڈنٹ ) نے کی۔چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال تحریک جدید نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم جمال وحسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔تلاوت و نظم کے بعد مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب قائمقام ناظر اصلاح وارشاد نے ربوہ میں منعقد ہونے والی اس پہلی مرکزی کلاس کے کوائف پر مشتمل مختصر رپورٹ پیش کی۔آپ نے کلاس کی غرض و غایت، اس کے انتظامات اور اس کے نصاب، طلباء کی تعداد اور مختلف مضامین کے اساتذہ کرام کا ذکر کرنے کے بعد اساتذہ کرام اور ان علماء کا شکر یہ ادا کیا جنہوں نے مختلف موضوعات پر لیکچر دیئے۔آپ نے محترم افسر صاحب لنگر خانہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے باہر سے آنے والے طلباء کی رہائش وغیرہ کا انتظام کیا اور مہمان نوازی کے فرائض انجام دیئے۔آخر میں آپ نے (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمدیہ کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ آپ نے اس کلاس کے انعقاد میں گہری دلچسپی لی۔اور نہایت مفید مشوروں اور ہدایات سے نوازا۔اور کلاس کے انتظامات کے متعلق دریافت فرماتے رہے۔آپ نے یہ بتانے کے بعد کہ پہلی کلاس کا انعقاد ابتدائی تجربہ کی حیثیت رکھتا ہے یقین دلایا کہ آئندہ اس کلاس کو وسیع پیمانے پر زیادہ بہتر انتظامات کے ساتھ منعقد کیا جائے گا۔آپ کے بعد طلباء کلاس کی طرف سے جناب عطاء المجیب صاحب راشد (ایم۔اے سٹوڈنٹ) حال مربی انچارج احمد یہ مشن انگلستان) نے نظارت اصلاح وارشاد، اساتذہ کرام اور علماء سلسلہ کا شکریہ ادا کیا اور دعا کی درخواست کی کہ جو کچھ انہوں نے کلاس میں سیکھا ہے وہ ایک پیج ثابت ہو جو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے بعد انہیں قرآنی علوم سے عملاً فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کا موجب بنے۔