تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 473
تاریخ احمدیت۔جلد 22 473 سال 1964ء فرمایا کہ قرآن مجید کی بے مثال و لا زوال تعلیم حاصل کرنا، اس پر عمل پیرا ہونا اور اسے دنیا میں پھیلانا جماعت احمدیہ کا اولین مقصد ہے۔چنانچہ یہ کلاس اسی غرض کے ماتحت قائم کی گئی ہے کہ دوست زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہو کر قرآنی علوم سیکھیں۔ان پر عمل پیرا ہوں اور پھر دوسروں کو بھی ان سے بہرہ ور کریں۔افتتاح کے وقت باون احباب تشریف فرما تھے جس کے بعد آہستہ آہستہ اور بھی متعدد احباب شامل کلاس ہو گئے یہاں تک کہ ربوہ اور بیرون جات کے طلباء کلاس کی تعدادے تک پہنچ گئی۔جس میں طالبات شامل نہ تھیں۔یہ کلاس ایک ماہ تک صبح سات سے گیارہ بجے تک جاری رہی۔پروگرام حسب ذیل تھا:۔بجے صبح تا ۷:۴۵ درس قرآن مجید پہلے تین پارے (مولانا ابوالعطاء صاحب) ۷:۴۵ تا ۸:۳۰ درس حدیث ( سید میر داؤ د احمد صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ ) ۸:۳۰ تا ۹:۱۵ درس قرآن پاره چارتاسات (صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب) ۹:۱۵ تا ۹:۴۵ وقفہ ۹:۴۵ تا ۱۰:۳۰ درس قرآن پارہ آٹھ تا دس ( مولانا ابوالمنیر نور الحق صاحب) ۱۰:۳۰ تا ۱۱:۰۰ قرآن کریم کی عظمت و اہمیت کے متعلق فاضل مقررین کے لیکچر۔اس پروگرام کے مطابق مولانا ابوالعطاء صاحب، صاحبزادہ مرزار فیع احمد صاحب اور مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب نے کلاس میں ایک ماہ کے دوران پہلے آٹھ پارے پڑھائے اور سید میر داؤد احمد صاحب نے ریاض الصالحین اور بخاری شریف کے ایک حصہ کا درس دیا۔علوم قرآن اور علوم حدیث پر جن علمائے کرام نے لیکچر دیئے ان میں مکرم مولا نا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل، مکرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ، مکرم مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر، مکرم مولوی خورشید احمد صاحب شاد، مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد، مکرم مولوی اسد اللہ صاحب کا شمیری، مکرم شیخ نور احمد صاحب منیر اور مکرم مولوی قمر الدین صاحب شامل تھے۔کلاس کے آخر میں بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کی اہمیت پر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی ایک پُر معارف تقریر کا ریکارڈ سنایا گیا۔۳۱ جولائی کو کلاس کے اختتام پر حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی نے اجتماعی دعا کرائی اور یہ با برکت کلاس مسلسل ایک ماہ تک جاری رہنے کے بعد کامیابی اور خیر وخوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔