تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 464
تاریخ احمدیت۔جلد 22 464 سال 1964ء ۱۵۔اس حکم ضبطی میں وہ عبارتیں نہیں دی گئیں جو حکومت کے نزدیک محل اعتراض ہیں بلکہ 9 مختلف صفحات کا حوالہ دیا گیا ہے ان صفحات کے مطالعہ سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ شاید مندرجہ ذیل باتیں محل اعتراض سمجھی گئی ہونگی:۔اول: حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے فنافی الرسول ہو کر ختمی اور بروزی رنگ میں خدا کے حکم سے محمد واحمد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔دوم : صفحہا اپر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کے متعلق ایک کشف بیان کیا ہے۔۱۲۔مذکورہ بالاشق اول میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا دعولی محض اس رنگ میں ہے جیسا کہ کسی کا عکس شیشہ میں پڑتا ہو اور وہ اس میں خلّی طور پر نظر آتا ہو لیکن اصل اصل ہی ہے اور عکس عکس ہی رہے گا۔چنانچہ آپ اس رسالہ میں فرماتے ہیں : ” اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو (صفحہ ۲ )۔اس حقیقت کو مذکورہ رسالہ میں واضح طور پر اور کھول کر بیان کیا گیا ہے۔۱۷۔امت محمدیہ میں بہت سے بزرگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے درجہ کے مطابق فیض نبوی پا کر اپنے متعلق خلی رنگ میں ”محمد“ اور ”احمد“ کے الفاظ استعمال کئے ہیں مثلاً حضرت سید عبدالقادر نے فرمایا:۔و اني كنت فانيا في رسولِ الله صلى الله عليه وسلم و لم اكن في ذالك الوقت فلاناً و انما كنتُ محمدًا و الا لما صح لى قول ما قلت الا على وجه الحكاية عنه صلى الله عليه وسلم و كذا وقَعَ لى مَرّةً أخرى في قوله صلى الله عليه وسلم: "أنا سيد ولد آدم ولا فخر۔67 ترجمہ:۔اس کا اردو تر جمہ الکا ویہ علی الغاویہ مصنفہ مولوی محمد عالم آسی مطبوعہ آفتاب برقی پریس اگست ۱۹۲۰ء میں یوں دیا گیا ہے: ”حضرت عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار مجھے ایسا محو کر دیا کہ میں کہہ رہا تھا کہ لَو كَانَ مُوسى حيا لَمَا وَسِعَهُ إِلَّا اتَّبَاعِي “ (اگر موسیٰ و عیسی زندہ رہتے تو انہیں میری اتباع کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ) تو مجھے معلوم ہوا کہ میں فنافی الرسول ہوں پھر ایک دفعہ محو ہوا تو میں کہہ رہا تھا کہ أَنَا سَيِّدُ وُلدِ آدَمَ وَلا فَخُر “ ( میں سید ولد آدم ہوں اور مجھے کوئی فخر نہیں ) جس سے معلوم ہو گیا کہ میں اُس وقت محمد بن گیا تھا اور نہ ایسے الفاظ مجھ سے بطور دعوی دائر نہ ہوتے 68